دی آگس برگ اعتراف

The Augsburg Confession

دی آگس برگ اعتراف

عقیدے  کا یہ  اعتراف شہنشاہ چارلس پنجم  کی خدمت میں سنہ   1530  

میں  آگس برگ کے مقام پر  مخصوص شہروں اور شہزادوں کی طرف سے  ایک  مقامی مجلس کے دوران پیش کیا گیا۔

میں   بادشاہوں کے سامنے آپ کی  شہادتوں   کی گواہی  دوں گا، اور شرمندہ  نہیں ہوں گا۔مناجات :  119:46 

دیباچہ

شہنشاہ چارلس  پنجم کے نام۔

نا قابل  تسخیر شہنشاہ ،انتہائی  رحم دل  آقا، قیصر آگسٹس،

شہنشاہ معظم کے حکم سے  سلطنت  کی ایک مقامی مجلس    یہاں آگس برگ میں بلائی گئی ہے تاکہ  تر کی کے خلاف  حکمت عملی طے کی جائے، جو  بے حد ظالم،  موروثی  اور عیسائی نام اور مذہب  کا  قدیم دشمن ہے،  یعنی ،  ہم  کیسے  ایک مضبوط  ،طاقتور  فوجی قوت کے  غیض وغضب کا مقابلہ  موثر انداز میں کر سکتے  ہیں۔ آپ نے ہمیں  اس  لئے بھی  بلوایا  ہے   کہ ہم اپنے  مذہب اور عیسائی عقیدے  کے بارے میں   اپنے باہمی اختلافات  پر غور کریں۔اس طرح  سے، مذہب کے اس معاملے میں،  جبکہ  ہر کوئی یہاں موجود ہے، آپ  مختلف فریقین  کی رائے اور فیصلے  سن سکتے ہیں؛ اور  ان دلائل کو   باہمی رواداری، ہمدردی اور سخاوت  سے جانچ کر  ان پر غور وفکر کر سکیں گے۔

اس طرح سے، ہر چیز  جو ہر طرف سے  غلط انداز میں پیش کی گئی  ہو یا  تحریری طور پر لکھی گئی ہو کی درستگی اور برخواستگی  کے بعد، یہ معاملات  طے پا جائیں گے اورواحد   عیسائی  معاہدے اور خالص سچ  پر واپس آ جائیں گے۔اس طرح سے، مستقبل میں ہم سب   ایک خالص اور سچے مذہب کو قبول کر لیں گے،اورجیسے  اب ہم ایک  مسیح  کے  تحت  ہیں اور اسی کے لئے جنگ کریں گے،اس طرح ہم اتحاد اور  ہم آہنگی  کے ساتھ ایک  عیسائی  چرچ  کے تحت  رہنے کے قابل ہو سکیں گے۔

اس  مجلس میں جس میں آپ نے  ہمیں دعوت دی ہے، محصور انتخاب کنندگان اور شہزادے، اور دوسرے جو ہمارے ساتھ ہیں، اور اسی طرح  جو دوسرے انتخاب کنندگان ، شہزادے  اور دوسری ریاستیں، اور انہی  وجوہات کی بنا پر ، شاہی فرمان کی  اطاعت کی تعمیل میں،ہم  فوراً آگس برگ  پہنچے۔بلاشبہ،ہم  بڑا بول نہیں بولنا چاہتے ،لیکن  ہم پہنچنے والوں میں  اولین ہیں۔

لہذا،  آگس برگ  کی اس  مجلس  کی ابتدا میں، شہنشاہ معظم نے   انتخاب کنندگان ،شہزادوں، اور سلطنت  کی دوسری ریاستوں  کو  صلاح دی ہے ، کہ دوسری چیزوں کے ساتھ، یعنی کہ سلطنت کی مختلف  ریاستیں، شاہی  فرمان کے مطابق، اپنی رائے  اور مشاہد ات جرمن اور لاطینی  زبان میں لکھ  کر پیش کریں ۔ پھر  ہم اگلے بدھ کے  دن   ، مزید غوروفکر کے  بعد، ہم   آپ کے حضور جواب  پیش کیا ، ہم اپنی جانب سے  اپنے  اعتراف کے نکات  آنے والے بدھ  وار کو  آپ کے سامنے پیش کریں گے۔ لہذا،حضورِ والہ کی   مذہب سے متعلق خواہش  کے  احترام میں ، ہم  اپنا  اور  ہمارے مبلغین  کا اعتراف نامہ   پیش کرتے ہیں ، یہ   دکھانے  کے لئے کہ وہ  ہماری سرزمین، ہماری جاگیروں، ہمارے شہروں  ـــــ اور ہمارے گرجا گھروں میں  مقدس صحیفوں اور  سچے خدائی کلام میں سے کیا کچھ پڑھا رہے  ہیں۔

اگر ہمارے دوسرے انتخاب کنندگان ، شہزادے ،اور  سلطنت کی ریاستیں  بھی اسی  شاہی  فرمان   کی پیروی  کرتے ہوئے، اسی طرز میں تحریراً پیش کریں، یعنی  کہ لاطینی اور جرمن میں، اور ان   مذہبی  امور کے بارے میں اپنی  رائے دیں،ہم تیار ہیں، شہزادوں  اور دوستوں کے ہمراہ جیسا کہ پہلے ہی بیان کیا گیا ہے،  کہ یہاں آپ کے سامنے   شہنشاہ معظم ، ہمارے  سب سے  رحم دل آقا کے حضور، تاکہ  ہر چیز پر  دوستانہ انداز میں  مباحثہ کر لیا  جائے ۔ ہم اس پر آمادہ ہیں کہ  معززانہ   انداز   میں  ملاقات  کریں، تاکہ  جانبین  کی طرف سے اختلافات پر  پرامن  انداز میں بات  چیت ہو سکے، کسی بھی   جارحانہ کشمکش کے بغیر۔ تاکہ   نا اتفاقی،خدا کی مدد سے، اختتام پذیر ہو، اور ہم   ایک سچے  مستحکم  مذہب   پر واپس متفق ہو سکیں۔ آخرکار ہم ایک مسیح  کے تحت ہیں ، اور اسی کے لئے جنگ  کرتے ہیں، چنانچہ  ہم سب کو آپ کے شاہی فرمان کی تعمیل  کرتے ہوئے ایک مسیح  پر ایمان لانا ہو گا  اور  خدا کی سچائی کے مطابق ہر چیز پر عمل کرنا ہوگا۔اس سب کے لئے ، ہم  دلی طور  پر خدا سے دعا کرتے   ہیں۔

علاوہ  ازیں، تاہم ، دوسرے  انتخاب کنندگان ، شہزادے  اور ریاستیں  بھی ہیں  ، جو دوسری طرف  ہیں۔اور  حضور والہ نے  نہایت  دانائی  سے   بتایا ہے کہ  کہ ان  مذہبی  معاملات کو    تحریری   اور پرسکون بات چیت  کے ذریعے  حل کیا جا نا چاہیئے۔ اب، اگر کوئی  بہتری دکھائی نہیں دیتی،  اور ہم اس بحث  و مباحثے  سے کوئی  مثبت نتیجہ حاصل نہیں کرپاتے، کم از کم  ہم آپ  سے  ا یک  واضح شہادت کے ساتھ  رخصت ہوں گے کہ ہم  اپنی طرف سے  عیسائی اتحاد  میں کوئی رخنہ نہیں ڈالیں گے، اب تک  یہ  خدا  اور اچھے  ضمیر کے  ساتھ ممکن ہے۔ شہنشاہ معظم،اگر آپ اس معاملے کی غیرجانبدارانہ  انداز میں سنوائی  کریں گے تو ، آپ ،اور کے ساتھ ساتھ دوسرے انتخاب کنندگان ، اور شہزادے اور سلطنت کی ریاستیں، اور  وہ سب جو   محبت  خلوص  اور جوش و خروش  کے ساتھ  مذہب سے محبت کرتے ہیں، وہ   ہمارے  اعتراف  کا مشاہدہ  احسن طریقے   کرسکیں گے اوراسے سمجھ سکیں گے۔

 شہنششاہ  معظم،  آپ نے  ایک دفعہ نہیں بلکہ کئی دفعہ، جس میں   سنہ     1526میں   سپائرز  کے مقام  پر ہونے  والی  مجلس  بھی شامل ہے  میں بھی شائستگی سے انتخاب کنندگان ، اور شہزادوں اور سلطنت کی ریاستوں کو مطلع کیا تھا ،اور، ان  کو شاہی  فرمان  دیتے ہوئے   ہدایات دیتے   ہوئے، ان کو احاطہ تحریر میں لایا اور شائع کیا گیا کہ  آپ ، ان مذہبی امور   سے نمٹنے   کے لئے ،کچھ وجوہات کی بنا پر  جو  کہ آپ کے نام سے  بتائی گئی تھیں،  کسی  حتمی    تعین اور فیصلے  کے لئے   آمادہ نہیں۔ اس کی بجائے، آپ  تندہی  سے یہ چاہتے ہیں کہ آپ کے  دفتر کو  پا پائے روم کے ہمراہ استعمال  کرتے  ہوئے ایک عام  مشاوراتی مجلس بلائی جائے۔ انہوں نے یہی پیغام  بڑے  پیمانے پر  دوبارہ ایک سال پہلے سپائرز  میں   ہونے والی آخری مجلس     میں شائع کیا۔ وہاں  آپ  نے  عزت مآب فرڈینیڈ، شاہ  بوہیممیا  اور ہنگری، ہمارے دوست  اور رحمدل آقا، کے ذریعے ، اس کے ساتھ ساتھ  نقیب اور  شاہی کمشنروں کے ذریعے اعلان کیا گیا، دوسری چیزوں کے ساتھ، یعنی آپ نے  شہنشاہ معظم،سلطنت میں   اپنے شاہی  نمائندے کی  قرارداد  کو سنا اور اس پر غور کیا، اور  صدر کواور  شاہی  مشیران اور دوسری ریاستوں  کے سفیروں کو ریتسبون میں جمع کیا ،  مشاورتی  مجلس کے بلاوے کے بارے  میں؛ اور یہ کہ  آپ  نے خود بھی  یہی   اندازہ لگایا ہو گا کہ مشاوراتی  مجلس بلوانا کتنا  موزوں ہو سکتا ہے؛ اور یہ کہ آپ  کو  یہ شبہ  نہیں کہ  پاپائے روم    مشاوراتی  مجلس  کو روکنے  کی ترغیب  دے سکتے ہیں،کیونکہ  پاپائے روم  اور آپ کے درمیان  کے معاملات پر  عیسائی مفاہمت اور معاہدہ تقریباً طے  پانے والا ہے۔لہذا، حضور والہ آپ خود  بھی،   سمجھتے ہوں گے  کہ آپ پاپائے روم سے آپ کے ہمراہ، عام مشاورتی  مجلس بلوانے   کی اجازت حاصل کرنے کی  کوشش کر سکتے ہیں،  جس کے بارے میں جلد از جلد  دعوت ناموں کے  ذریعے  تشہیر شروع کی جائے گی۔

چنانچہ ، نتیجہ، شائد  یہ   ہوکہ مذہبی  معاملات پر ہمارے  اختلافات  جو ہمارے درمیان  اور دوسری جانب   دوستانہ انداز  میں اور   نیک نیتی  سے  طے نہ پا سکیں۔ اس صورت حال میں،یہاں آپ کی موجودگی میں ہم  اطاعت میں یہ پیش کرتے ہیں،  اس اضافے  کے ساتھ جو ہم  پہلے ہی کرچکے ہیں، کہ  ہم  ایک عام، آزاد عیسائی مشاورتی مجلس میں اپنے  مقصد کا دفاع کریں گے۔ اس طرح کی مشاورتی مجلس   کے قیام  کے لئےویسے ہی ، آپ کے عہد حکومت  کے دوران ہونے والی تمام مجالس  میں  الیکٹرحضرات ،شہزادوں اور سلطنت کی دوسری ریاستوں  کے درمیان  ایک  اتفاق رائے اور معاہدہ ہے ۔ہم اس عام مشاورتی مجلس کو ، اور اس کے ساتھ ساتھ  آپ کو مخاطب کرتے ہوئے، ہم نے ،یہاں تک کہ اس سے پہلے بھی، تمام قواعد   اور قانونی  طریقہ کار  کے مطابق،  خود کو مخاطب  کیا اور  اس اہم اور سنجیدہ معاملے  کے  بارے  میں   گزارش کی۔  ہم  پھر  آپ  سے  بھی اور اس  مشاورتی مجلس    دونوں سے یہ گزارش کرتے ہیں ۔اور ہماری  کوئی  نیت نہیں ، اور نا  ہی ہم چاہیں گے ، کہ اس  گزارش  سے اس دستاویز  یا کسی اور ذریعے سے  دستبردار ہوں،  جب تک کہ  ہمارے درمیان  اور دوسری جانب   سے  اختلافات  کو دوستانہ انداز  میں اور نیک نیتی  سے  طے کر کے، ایک طرف   ہٹا کر ، اور عیسائیت پر اتفاق  پر     لے آئیں ،   موجودہ   زمانے  کے شاہی حوالوں کے  مطابق۔  اسی کے لئے  ہم یہاں سنجیدگی سے اعلانیہ طور  پر  گواہی  دینے کے لئے  جمع  ہوئے ہیں۔

  ایمان کی اہم شقیں

شق  ۱  :  ایک خدا پر

ہمارے   گرجا گھر   نیقیائی  کی مشاورتی مجلس کے فرمان کے مطابق    اتفاق رائے سے خدا   اور تین اشخاص  کی  واحدانیت کے   بارے میں      سکھاتے ہیں   ، کہ یہ  سچ ہے اور اس پر بلا شک و شبہ یقین رکھنا چاہیے۔ اس کا مطلب ہے  ایک  ابدی روح  ہے  جسے کہا جاتا ہے اور جو خدا ہے: لافانی، بغیر کسی جسم کے، بغیر کسی  حصے  کے، لامحدود طاقت، دانائی، اور اچھائی، ہر چیز کا  خالق اور مالک جو نظر آتی اور نظر نہیں آتی۔ اور پھر بھی تین اشخاص ہیں، اسی روح اور طاقت کے،جو   ہم ابد بھی ہیں،  باپ،بیٹا اور مقدس روح۔ اور ہم   ’’شخص‘‘  کی اصطلاح  ایسے استعمال کرتے ہیں جیسے گرجا گھر کے پادری اس کواستعمال کرتے  ہیں،  کسی دوسرے حصے یا  کسی  اور معیار کی نشاندہی کرنے کے لئے نہیں ، بلکہ وہ جو خود  بخود میں ہی رہتا ہے۔

ہم  ان تمام ملحدوں کی مذمت کرتے ہیں جو اس  شق  کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے  ہیں، جیسا  کہ مانیکی ہیں، جو دو اصولوں پر یقین رکھتے ہیں ،ایک خدا اور  دوسری  برائی۔ ہم ویلنٹینئن ،  آریانوں،یونومیئنوں، مسلمانوں،  اور تمام ان جیسے جیسوں  کی مذمت کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہم سیموستانیوں ، نئے اور پرانے، جو یہ بحث کرتے ہیں کہ  صرف ایک  شخص  ہے؛     وہ بے دینی   اور  ہلکے پن سے یہ  سکھاتے ہیں کہ  کلام اور  مقدس روح  مختلف  اشخاص نہیں، بلکہ  ’’ کلام‘‘ اشارہ  کرتا ہے بولے جانے  والے لفظ کی جانب ، اور ’’ روح‘‘  اشارہ کرتا  ہے حرکت کی جانب۔

شق نمبر ۲: اصل گناہ  پر

ہم یہ بھی   سکھاتےہیں کہ آدم  کے   زمین پر اترنے  کے بعد، تمام   بنی نوع  انسان  جو  نطفہ قرار پاکر قدرتی انداز میں پیدا ہوتے ہیں  گناہ کے ساتھ  پیدا ہوتے ہیں،یعنی کہ ، خوف خدا کے  بغیر، خدا پر اعتماد کے بغیر، اور شہوت کے ساتھ۔ اور ہم  پڑھاتے ہیں کہ  یہ بیماری، یا برائیوں کی جڑ، اصل میں گناہ ہے، اور ابھی  بھی ان لوگوں  کو سزا دیتا ہے اور ان  کو ابدی  موت کی طرف لے جاتا ہے جو بپتسمہ اور  مقدس روح کے ذریعے دوبارہ پیدا نہیں ہوتے۔

 ہم پلاجینز کو اور ان دوسروں کی بھی مذمت کرتے ہیں    جو اس بات سے انکار کرتے ہیں کہ اصل بدکاری  گناہ ہے، اور آدمی  خدا  کے سامنے اپنی طاقت اور عقل کی بنا پر   درست  ثابت  ہوسکتا  ہے  کہ کر یسوع مسیح  کے  معیار  کی شان اور فوائد  کو غیرواضح کرتے ہیں ۔

شق نمبر۳: خدا کے بیٹے پر۔

ہم  یہ  بھی پڑھاتے ہیں کہ  مقدس کلام، جو کہ  خدا کا بیٹا ہے،  نے کنواری مریم کی کھوکھ میں انسانی شکل اختیار کی، چنانچہ یہاں دو  فطرتیں ہیں:  ابدی فطرت اور انسانی  فطرت، جو ایک  انسان ، مسیح  ،میں اکٹھی ہونے کے بعد ناقابل جدا  ہیں، سچا خدا اور سچا انسان، جو کنواری مریم میں سے  پیدا ہوا،  نےحقیقتاً  اذیت جھیلی، مصلوب ہوئے، وفات  پائی، اور دفن ہوئے، تاکہ شائد وہ  باپ کو  ہم سے ملا سکیں،  اور قربان رہ سکیں، ناصرف اصل گناہ کے لئے،بلکہ بنی نوع انسان کے تمام گناہوں کے لئے۔ وہ  جہنم میں  بھی اترے، اور واقعتاً تین دن بعد دوبارہ  اٹھے؛ اس کے بعد وہ  جنت  میں    طلوع  ہوئے کہ شائد وہ  باپ کے دائیں طرف  تشریف فرما ہوئے ہوں، اور ہمیشہ کے لئے تمام مخلوق پر   غلبہ  پا کر  حکومت کریں ، اور جو ان پر ایمان لائیں گے، مقدس روح کو ان  کے  دلوں میں  داخل  کرکے، ان کی تطہیر  کریں  گے، حکمرانی کے لئے، سکون دینے کے لئے،اور ان کو زندگی کی طرف لوٹا کر ، اور گناہ کی طاقتوں اور شیطان  کے خلاف ان  کا    دفاع کر یں گے   ۔

اور  نبیوں کے عقیدے کے مطابق، یہی مسیح   روز روشن  دوبارہ  لوٹیں  گے  زندہ اور مردہ  لوگوں کا  انصاف کرنے کے لئے ، وغیرہ ۔

شق نمبر ۴: انصاف پر

ہم یہ سکھاتے ہیں کہ آدمیوں کا حساب خدا کے سامنے  انکی طاقت،معیار، یا کاموں کی وجہ  سے   نہیں ہو سکتا، بلکہ ان کو مسیح کی وجہ  سے بخشا  جائے  گا، ایمان کے ذریعے سے، جب وہ یہ  یقین رکھیں کہ  ان پر احسان کیا گیا  ہے  اور مسیح موعود کی وجہ سے ان کے گناہ بخشے گئے ہیں، جو ، اپنی  موت کے سبب  ہمارے  گناہوں   کا کفارہ اد ا کر چکے  ہیں۔ خدا اس  عقیدے  کو اپنی نگاہ میں اچھائی سے منسوب  کرتا  ہے۔ رومن ۳ اور ۴۔

شق نمبر ۵: وزارت  پر

  انجیل مقدس   کی تعلیم اور مقدس رسومات کے انتظام  کے لئے وزارت کا قیام کیا گیا تاکہ ہم  ایمان پا سکیں۔ کلام اور  مقدس رسومات  کے ذریعے، جیسا کہ آلات کے ذریعے، مقدس روح عطا کی جاتی ہے،جو  ایمان کا  کام کرتا ہے کہ کب اور کیسے خدا اس  سے  خوش ہوتاہے،جو  انجیل  کی تلاوت سنتے ہیں۔ یہ خبر ہے کہ خدا، ہماری اہلیت پر نہیں، بلکہ مسیح  کے واسطے سے، ان کا  انصاف  کرتا ہے جو اس پر یقین رکھتے ہیں کہ وہ مسیح کی خاطر  فلاح   پا گئے۔

ہم عنابپتسموں کی مذمت کرتے ہیں جو خیال کرتے ہیں کہ مقدس روح انسانوں میں بغیر کسی کلام کے آتی ہے، ان کی اپنی تیاریوں اور کاموں کی وجہ سے۔

شق نمبر ۶: نئی  اطاعت پر

ہم یہ بھی سکھاتے  ہیں کہ یہ  عقیدہ  یقینی طور پر اچھا   صلہ  لاتا ہے، اور یہ کہ خدا کی منشا ء کے  خدا کے حکم کے مطابق  اچھے  کام  کرنا ضروری ہیں۔لیکن ہم  تعلیم دیتے  ہیں کہ ہمیں ان کاموں  پر یہ سوچ کر تکیہ نہیں کرنا  چاہیے کہ خدا کے سامنے  ان کی اہمیت کا  جواز ہو گا۔  گناہوں کی کمی     اور جواز  کو ایمان  کے ذریعے سمجھا جا سکتا  ہے، کیونکہ مسیح کی آواز بھی  گواہی دیتی  ہے: ’’ جب تم نے سب کچھ کرڈالا،کہا: ہم   رہے بے  کار خدمت گار۔‘‘ لوکا  17:10 ۔

گرجا  گھر کے پادری بھی یہی سکھاتے ہیں ہیں۔ کیونکہ امبروز کہتے   ہیں کہ خدا نے یہی چاہا تھا، کہ کیونکہ ان کو  یقین تھا  کہ   جومسیح  پر یقین  رکھتا  ہے محفوظ  ہوگا اور آزادی سے،بغیر کوئی کام کیے ، صرف ایمان  کی بنا پر،گنا ہوں کی معافی  پاجائے  گا۔

شق نمبر ۷: گرجا گھر سے

 ہم یہ بھی سکھاتے  ہیں کہ ایک مقدس  گرجا گھر ہے اور وہ ہمیشہ رہے گا۔ گرجا  گھر ولیوں  کا  اجتماع  ہے، جہاں وہ انجیل مقدس  درست طریقے سے پڑھاتے ہیں اور جہاں مقدس رسومات کا  اہتمام کیا جاتا ہے۔

اور ہم تبلیغ کرتے ہیں کہ گرجا گھر کے اصل اتحاد کے لئے  یہی کافی ہے کہ انجیل  مقدس کے اصولوں  اور  سیکرامنٹ کے انتظامات   پر کاربند رہا جائے۔ اور  یہ ضروری  نہیں  کہ انسانی روایات ،  یعنی  کہ رسومات یا  تقریبات، جو کہ انسانوں   نے وضع کیں، ہر جگہ ایک  جیسی ہوں۔ جیسا  کہ پال کہتے  ہیں:  ’’ ایک ایمان ، ایک  بپتسمہ، ایک خدا اور سب کے باپ،‘‘ وغیرہ۔  افسیوں  4:5-6

شق نمبر ۸: چرچ کیا ہے

 اگرچہ  گرجا گھردرست  طور پر  ولیوں  اور ایمان رکھنے  والوں کا   اصل  اجتماع ہے، تاہم، اس  زندگی میں بہت سے منافق اور برے لوگ  ان کے درمیان موجود ہیں، یہ  جائز ہے کہ  مقدس رسومات کا استعما ل  کیا جائے یہاں تک کہ اگر بدکار  لوگ بھی ان کا اہتمام  کریں،مسیح کے  قول کے مطابق:  ’’کاتب اور ریا کار  موسیٰ کے مقام پر جا بیٹھے ہیں،‘‘  وغیرہ۔ میتھیو     23:2۔مقدس رسومات اور کلام  دونوں مسیح کے احکام  اور  دستور کے بموجب موثر ہیں، چاہے  کوئی بدکار ہی کیوں  نہ انہیں سرانجام دے۔

ہم ڈونیٹسٹوں کی مذمت کرتے ہیں، اور ان جیسے دوسروں کی بھی، جو اس بات سے انکار کرتے ہیں کہ چرچ میں  بدکار لوگوں کی  وزارت استعمال کرنا جائز تھا، اور جو یہ سمجھتے تھے کہ بدکار لوگوں  کی وزارت بے فائدہ اور بے اثر تھی۔

شق  نمبر ۹: بپتسمہ  پر

ہم  یہ بھی  سکھاتے ہیں  کہ  بپتسمہ  سالمیت کے لئے ضروری ہے، اور بپتسمہ کے ہی  ذریعے خدا کا  فضل   پیش کیا جاتا  ہے۔ ہم یہ بھی سکھاتے ہیں کہ بچوں کو ضرور بپتسمہ  کروانا چاہیے جو،  جب  بپتسمہ کے ذریعے  خدا کے سامنے لائے جاتے ہیں، خدا کا فضل وکرم  حاصل  کرتے ہیں۔ ہم عنابپتسموں کی  مذمت کرتے ہیں، جو بچوں کے بپتسمہ  کو رد  کرتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ بچے  بپتسمہ کے بغیر ہی محفوظ ہیں۔

شق نمبر ۱۰:خداکے   طعام پر

خدا کے طعام  کے بارے  میں ، ہم یہ سکھاتے ہیں کہ عیسٰی کا جسم اور روح  اصل  میں موجود  ہے، اور یہ کہ  وہ  ان  سب  میں منقسم ہوگئے  جنہوں  نے خدا کا  طعام نوش  جان کیا ؛ اور ہم  ان  کو رد کرتے ہیں جو اس کے علاوہ   تبلیغ کرتے ہیں۔

شق نمبر ۱۱:  اعتراف پر

 اعتراف  پر ،ہم یہ  سکھاتے ہیں کہ ذاتی  معافی کا عمل گرجا گھروں میں جاری رہنا  چاہیے ، اگرچہ  اعتراف  میں، یہ ضروری نہیں کہ تمام گناہوں  کو تفصیل سے بیان کیا جائے۔کیونکہ  مناجات کے مطابق،یہ ناممکن ہے۔’’ کون ہے جو  اپنی خطاؤں کو سمجھے؟‘‘ مناجات  19:12

شق نمبر ۱۲:  توبہ پر

 توبہ کے بارے میں ہم یہ سکھا  تے ہیں کہ گناہوں کا کفارہ ان لوگوں کے لئے ہے جو بپتسمہ کے بعد  بہکتے  ہیں جب  وہ بدلتے  ہیں ، اور اس صورتحال  میں گرجا  گھر  کوانہیں  معافی دینا چاہیے جو  توبہ کی طرف  لوٹتے ہیں۔

اب ، توبہ میں دو  حصے ہوتے ہیں: پہلی  ندامت، جو کہ  گناہ کے ہونے  کا احساس  دہشت جو ضمیر کو کچوکے لگاتا ہے؛ دوسرا عقیدہ، جو انجیل سے پیدا ہوا، یا  معافی سے۔ یہ عقیدہ یقین رکھتا  ہے   کہ   گناہ مسیح کے واسطے، بخشے جاتے  ہیں؛ اور اس سے ضمیر اطمینان پاتا ہے، اور  دہشت سے  نجات  دلاتا ہے۔ پھر اچھے  کام کرنا  شرط ہے جو بعد میں   کئے  جائیں ،جو کہ توبہ کا  صلہ  ہوتے ہیں۔

ہم عنا بپتسموں کی  مذمت کرتے ہیں ، جو یہ کہتے ہیں کہ  جن  کا حساب ہو گا   وہ مقدس روح   نہیں کھوئیں گے۔ہم ان کی بھی مذمت کرتے ہیں  جو یہ  بحث کرتے ہیں کہ  کچھ لوگ زندگی میں کاملیت  حاصل  کر لیتے  ہیں  کہ گناہ کے نزدیک بھی نہیں پھٹکتے۔

ہم نوویشیئنوں کی بھی مذمت کرتے  ہیں، جو بری نہیں کئے جائیں گے، چاہے  بپتسمہ ہی بعد برائی میں پڑے ہوں، اگرچہ  توبہ کی طرف لوٹ آئیں۔

وہ بھی رد  ہیں جو یہ نہیں سمجھاتے کہ گناہوں کی معافی عقیدہ سے ملتی ہے، بلکہ ہمیں  حکم دیتے   ہیں   کہ  اپنے  اطمینان  کے ذریعے ہی  فضل وکرم  کا اندازہ  لگا لیں۔

شق نمبر ۱۳:   سیکرامنٹ کے استعمال پر

سیکرامنٹ کے بارے میں ہم یہ سکھاتے ہیں کہ رسومات بنائی گئی  ہیں،  نا صرف  لوگوں میں  پیشے کی علامت  کے طور پر، بلکہ ہمارے لئے  خدا کی    رضا کی گواہی اور نشانی   ہونا ہے۔ خدا نے انہیں  جو اس  کو استعمال کرتے ہیں میں عقیدہ بیدار کرنے اور اس کی تائید کرنے کےبنایا ۔ اسی وجہ سے  ہمیں  سیکرامنٹ  کو اس  طرح سے استعمال کرنا چاہیے کہ عقیدہ  شامل ہو ، یہ یقین کرتے ہوئے کہ جو  وعدے کئے گئے  ہیں سیکرامنٹ کے  ذریعے تکمیل پائیں گے۔

چنانچہ ہم ان کی مذمت کرتے ہیں جو یہ تعلیم دیتے ہیں کہ سیکرامنٹ ظاہری عمل کے ذریعے ادا کی جاتی ہیں،   اور سیکرامنٹ کے استعمال  پر ، جو یہ نہیں  سکھاتے، تویہ یقین   کرنے  کے لئےکہ  گناہ بخشے  جائیں  گے ،عقیدہ    شرط ہے۔

شق نمبر ۱۴:  کلیسیائی  حکم پر

کلیسیائی  حکم پر  ہم یہ سکھاتے   ہیں کہ کسی  کو بھی کھلے  عام گرجا گھر میں تعلیم  نہیں  دینی  چاہیے، اور نہ ہی کوئی مذہبی تقریب  کرنی چاہیئےجب  تک کہ اسے باقاعدگی سے   بلوایا نہ جائے۔

شق نمبر ۱۵: کلیسیائی روایات پر

کلیسیائی روایات پرہم یہ سکھاتے ہیں، ہمیں ان کا مشاہدہ کرنا چاہیئے جو بغیر گناہ کے کرسکتے  ہیں، اور جو  گرجا  گھر میں  سکون اور اچھے ماحول کے لئے  مفید  ہوں،خاص طور پر مقدس دنوں، تہواروں اور ایسے مواقع  کے دوران۔

تاہم، ایسی چیزوں کے بارے میں، ہم تمام آدمیوں کو تنبیہ کرتے ہیں کہ  اپنے  ذہنوں پر اس  کا بوجھ نہ ڈالیں ، کیونکہ  ایسے تہوارنجات  کے لئے  ضروری ہوا کرتے تھے۔

ہم یہ بھی نصیحت کرتے ہیں کہ تمام انسانی روایات جو کہ خدا کی رضا کے لئے بنائی گئی ہیں، فضل وکرم کا حصول، اور گناہوں  سے سکون  حاصل کرنا، انجیل مقدس  اور عقیدے کے اصولوں کے برخلاف ہیں۔ اسی وجہ سے، دنوں اور گوشت سے متعلق   روایات اور عہد  وغیرہ، جو کہ  فضل وکرم  کے حصول  کے لئے بنائی گئیں اور  گناہوں کی  تسکین کرتی ہیں، اور انجیل مقدس کے برعکس اور بے کار ہیں۔

شق نمبر ۱۶: شہری معاملات پر

شہری معاملات پر ہم سکھاتے ہیں کہ جائز  شہری   قوانین خدا کے  بہترین کام ہیں، اور یہ کہ عیسائیوں کو شہری ادارے رکھنے ، جج کے طور پر  بیٹھنے ، اور معاملات کو شاہی اور دوسرے موجودہ قوانین کے ذریعے جانچنے کی ، سزائیں دینے کی،  منصفانہ جنگوں میں شمولیت کی، سپاہی کے طور پر  خدمت کرنے کی، قانونی معاہدے کرنے کی، جائیداد رکھنے کی ، مجسٹریٹوں کی  جانب سے ضرورت کے موقع پر حلف اٹھانے کی، شادی کی صورت میں،ایک  بیوی کو خوش رکھنے کی اجازت ہے۔

ہم عنابپتسموں کی مذمت کرتے ہیں جو  عیسائیوں کے لئےعوامی  حقوق کے اداروں  کو روکتے ہیں۔

ہم ان تمام  کی مذمت کرتے ہیں  اناجیل اربعہ کی کاملیت کو خدا  کے خوف  اور عقیدے  میں  نہیں رکھتے، لیکن  شہری  دفاتر کو  ترک  کر دیتے  ہیں۔ کیونکہ  انجیل   دل کی  ابدی اچھائی   کے بارے میں سکھاتی ہے۔ اسی اثناء  میں، انجیل  کبھی  بھی  ریاست یا خاندان کو  تباہ نہیں کرتی، یہ ضرور  چاہتی ہے کہ خدا کے قانون کے مطابق محفوظ رہے ، اور  خیرات  بھی اسی  قانون تحت   ادا ہونی چاہیے۔ عیسائی، اس کے علاوہ اپنے مجسٹریٹوں اور کے قوانین کو ماننے کے پابند ہیں، سوائے اس وقت کے جب وہ گناہ کا ارتکاب کرتے ہیں؛ اس صورتحا ل  میں بندوں کی  بجائے  خدا کے  اطاعت  کرنی  چاہیے۔ اعمال   5:29

شق نمبر۱۷: روز حساب مسیح  کی    واپسی پر

ہم یہ بھی تبلیغ کرتے ہیں کہ دنیا  کے خاتمے کے دن عیسیٰ مسیح  فیصلےکے لئے  ظاہر ہوں گے ، اور ان سب کو اٹھائیں گے جو  مر چکے  ہوں گے۔ وہ    نیک  اور  منتخب  کردہ بندوں کو  ابدی زندگی اور  خوشیاں عطا کرے گا ، لیکن  وہ بدکاروں   اور بد روحوں نا ختم ہونے  والے عذاب کی سزا دے گا۔

ہم عنا بپتسموں کی مذمت کرتے ہیں، جو سوچتے ہیں کہ  سزا یافتہ  لوگوں اور  بد روحوں  کی سزا کا  انت  بھی ہو گا۔

ہم ان کی بھی مذمت کرتے ہیں، جو اس وقت مخصوص یہودی نظریات کا  پرچار کررہے  ہیں، کہ مردہ  نیکوکار دوبارہ اٹھنے کے بعد  دنیا کی حکمرانی اپنے ہاتھ میں لیں گے، اور اس وقت، ہر جگہ  بدکار تباہ  کر دیئے جائیں گے۔

شق نمبر۱۸: آزاد خواہش  پر

آزاد خواہش  پر ہم یہ  سکھاتےہیں کہ آدمیوں کو خواہش  میں آزادی حاصل  ہے  کہ شہری حقوق میں سے   کچھ کاانتخاب کر سکیں، اور  اپنی  عقل کے مطابق  کام کر سکیں۔ لیکن  آدمی کی  خواہش  میں ،بنا مقدس روح  کے،  خدا کے لئے نیکی کرنے کی کوئی طاقت نہیں، جو کہ  روحانی تقویٰ ہے۔ یہ اس  لئے کہ  ’’ قدرتی انسان خدا کی روح  میں سے کوئی چیز   اس کی بجائے روحانی تقویٰ دل. 2:14 وصول نہیں کرتا۔‘‘ ۱  کرنتھی 

میں پیدا ہوتا ہے، جب مقدس روح کلام  کے ذریعے وصول  ہوتی ہے۔

آگسٹن کا    اپنی  کتاب ہیپوگنوسٹیکن، کتاب نمبر تین   میں  کہنا ہے کہ  زیادہ سے زیادہ الفاظ  میں  یہ چیزیں  : ’’ ہم یہ  اجازت دیتے ہیں  کہ انسان  آزاد  خواہش   رکھ  سکتے ہیں۔ یہ  آزادی ہے، جب تک   کہ  اس کو عقلی طور پر جانچا گیا ہو؛ یہ نہیں کہ وہ  خدا کے بغیر اس قابل  ہو گا۔ یا تو   شروع کریں ،یا، کم ازکم،  خدا سے متعلقہ  چیزوں کو اس کی مدد کے بغیر  مکمل کرنا ہو، لیکن   صرف اس  زندگی کے کاموں کے لئے،چاہے اچھے ہوں یا برے۔ میں  ’’ اچھا‘‘ اس کو کہوں گا   جو بھی کام  فطرتاًاچھائی سے نکلا ہو، جیسا کہ، کھیت میں مزدوری  کرنے کے لئے رضامند ہونا، کھانا اور پینا، ایک دوست  رکھنا،کسی کو کپڑے پہنانا،ایک گھر تعمیر کرنا، عورت سے شادی  کرنا، مویشی پروان چڑھانا، مختلف قسم کے مفید کام سیکھنا، یا  اس زندگی سے متعلق  کوئی بھی  کام ہو۔ کیونکہ یہ  سب چیز یں خدا کے فضل وکر م پر منحصر کرتی ہیں۔ بلاشبہ،اسی سے  اور اسی کے ذریعے وہ ہیں اور ان کی ہستی ہے۔ میں  ’’ برائی‘‘  ایسے کاموں کو  جیسے کہ بت کی پوجا  کرنا ، قتل کرنا ، وغیرہ‘‘ کو  کہ سکتا ہوں ۔

ہم  پلاجینز  اور دوسروں کی مذمت کرتے ہیں، جو یہ  تبلیغ کرتے ہیں کہ مقدس روح  کے بغیر، صرف فطری طاقت کی بنا  پر، ہم  سب چیزوں سے  بڑھ کر خدا سے محبت کر سکتے ہیں؛ اور خدا کے احکامات بھی ایسے چھوئے جا سکتے ہیں جیسے ’’    کام کے اصل کو‘‘۔ اگرچہ فطرت اس قابل ہے کہ  بیرونی کام کر سکے( کیونکہ وہ اس قابل ہے کہ اپنے ہاتھ چوری اور قتل  سے دور رکھے)، لیکن وہ اندرونی حرکات پیدا نہیں کر سکتا، جیسے کہ خوف خدا، خدا پر اعتماد،  پاکیزگی، صبر، وغیرہ۔

شق نمبر ۱۹: گناہ  کے سبب پر

گناہ کے سبب پر ہم یہ  سکھاتے ہیں کہ خدا ہی  فطرت بناتا اور محفوظ کرتا ہے۔ گناہ کی وجہ، تاہم، برائی کی   خواہش ہے، جو کہ، شیطان سے اور بدکار آدمیوں سے آتی  ہے۔خدا کی   مدد کے بغیر ، وہ خواہش، خود کو خدا سے دور لے جاتی ہے، جیسا کہ مسیح کا کہنا ہے : ’’ جب وہ جھوٹ  بولتا  ہے، وہ خود ہی بولتا ہے۔‘‘ یوحنا  8:44

شق نمبر ۲۰: خدا کے کاموں پر

ہمارے اسا تذہ  غلط  طور پر  اچھے کاموں سے منع کرنے   کےمجرم ٹھہرائے جاتے ہیں۔ دس احکامات   اور ان جیسے  دوسرے  موضوعات پر انکی   شائع شدہ تحریریں، اس  چیز کی شاہد ہیں کہ   انہوں نے زندگی  کے فرائض اور  املاک کے بارے میں بہترین تعلیم دی، جو بھی زندگی  کی املاک  ہیں اور جو بھی زندگی کے کام ہیں  ہر عبادت  میں خدا کو  راضی کرنے کے لئے ہیں۔ اس  سے پہلے، مبلغ ان چیزوں کے بارے میں بمشکل  تعلیم دیتے  تھے،  جو بے معنی اور بچگانہ ہوتی ہیں جیسے کہ  خاص تہواروں کے دن، روزے، بھائی چارہ، زیارتیں، ولیوں کے  اعزاز  تقریبات، تسبیحیں، خانقاہی  نظام، اور اس جیسی چیزیں۔ چونکہ ہمارے  مخالفین کو اس بارے  میں تنبیہ کی  گئی  تھی، وہ  اب انہیں   نہیں  سیکھ رہے، اور ان  بے   سود کاموں کی  تبلیغ نہیں کرتے جیسا کہ وہ پہلے کرتے تھے۔ مزید برآں، وہ انہوں نے عقیدے  کا حوالہ دینا شروع کر دیا  ہے، جس کے بارے میں  پہلے ایک حیرت انگیز خاموشی تھی۔ ہمارے مخالف  اب یہ  تبلیغ  کررہے ہیں کہ   ہماری نجات محض  اعمال کی بنا پر نہیں ہوگی، بلکہ یہ دونوں  کو جوڑتا ہے، اور یہ کہتے ہیں کہ ہمارا حساب  اعمال اور ایمان دونوں کہ بنا پر ہو گا۔ یہ نظریہ پچھلے والے   کی نسبت سے  زیادہ قابل قبول  ہے، اور پرانے     نظریے    کے برعکس  زیادہ تسلی دیتا  ہے۔

چنانچہ، عقیدے  پر  نظریے کی وجہ سے، اگرچہ اسے گرجا گھر  کا بنیادی نظریہ  ہونا چاہیے،   یہ طویل عرصے تک نا معلوم  رہاـــــــــ  اوران سب کو قبول  کرنا  پڑا کہ  ان کے خطبوں میں  عقیدے کی سچائی  سے متعلق گہری خاموشی طاری  رہی، جب گرجا گھروں میں صرف  اعمال کے نظریے   کو برتا گیا ــــــــــ ہمارے  گرجا گھروں  میں عقیدے  کو اس طرح  پڑھایا  گیا:

سب سے پہلے ہمارے اعمال نہ تو  خدا کو راضی کر سکتے ہیں یا  گنا ہوں  کی معافی،   فضل وکرم اور انصاف  کا  اندازہ  لگا سکتے  ہیں۔ اس کی بجائے ہم یہ  صرف عقیدے سے حاصل کرسکتے ہیں، جب  ہم یہ یقین رکھتے  ہیں کہ  ہمیں   عیسی ٰمسیح  کے صدقے بخشا  گیا ہے۔

وہ تنہا ہی  کفارے اور شفاعت  کے لئے آگے بڑھے،   ۱ تیمتھیئس  2:5، تاکہ خدا  شائد  ان کے ذریعے ہی راضی  ہو جائے۔ اگر کوئی، لہذا ، یقین  رکھتا ہے کہ وہ فضل ربی  کا اندازہ  اپنے اعمال کے ذریعے  کر سکتا  ہے، وہ   عیسی ٰ مسیح کے  فضل  اور معیار  کو حقیر سمجھتا  ہے ، کیونکہ وہ  خدا  تک  مسیح کے بغیر  پہنچنے کا کوئی  رستہ  تلاش کررہا ہے، انسانی  قوت،  سے، اگرچہ مسیح نے خود اپنے بارے میں فرمایا: ’’ میں ہی رستہ ہوں، سچا، اور زندگی۔‘‘ یوحنا 14:6

عقیدے    کے متعلق   یہ نظریہ     ہر جگہ    پال کے ذریعے پیش کیا  گیا۔ افسیوں   2:8’’ فضل  ربی کی بنا پر آپ عقیدے  کے ذریعے بخشے گئے؛ اور یہ تمہاری وجہ سے نہیں ہوا، یہ خدا کا  تحفہ  ہے، اعمال کا نتیجہ  نہیں،‘‘ وغیرہ۔

اور اسی لئے کوئی بھی  ہوشیاری  سے یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ  پال  کی نئی تشریح نکال لایا  ہے، یہ سارا معاملہ پادریوں کی  گواہیوں کا حمایت یافتہ ہے۔آگسٹن، کئی کتابوں میں،عقیدے  کی درستگی اور فضل ربی  کا اعمال کے درجے کے خلاف  دفاع کرتا  ہے۔۔ اور امبروز،  اپنی ڈی ووکیشن جینٹیئم، اور  کہیں اور،  میں یہی سکھاتا ہے۔ کیونکہ  اپنی ڈی ووکیشن جینٹیئم میں وہ یہ  کہتا ہے:

’’ عیسیٰ مسیح  کے خون کے بدلے رہائی قدر کھو بیٹھے گی،  ناہی انسان کے اعمال کی اہمیت خدا   کی رحمت سے خارج   ہو گی،  اگر حساب  ہوا،جو کہ فضل کے ذریعے  ہو   گا،پہلے کی گئی  اچھائیوں کی بنا  پر ہوگا،اس لئے ، وہ کسی عطیہ دہندہ کا  مفت تحفہ نہیں ہوگا، بلکہ کی گئی مشقت کا اجر ہو گا۔‘‘

اگرچہ جاہل  لوگ اس نظریے کو حقیر جانتے ہیں،تاہم، خدا سے ڈرنے والے اوربے چین ضمیروالے اپنے تجربے سے جانتے   ہیں کہ یہ   بہت زیادہ تسلی دلاتا ہے۔یہ اس لئے ہے کہ ضمیر کسی بھی عمل کے ذریعے نہیں ، بلکہ  عقیدے  کی بنا پر سکون  پاتا  ہے، جب وہ یقینی سمجھ جاتے ہیں کہ  مسیح کے واسطے  وہ خدا سے بخشے  جائیں گے۔ جیسا کا  پال  تبلیغ کرتے ہیں: ’’ عقیدے کی بنا پر بخشے جانے پر، ہم خدا سے سکون پاتے ہیں۔‘‘ رومیوں   5:1۔ یہ  سارا نظریہ دہشت زدہ  ضمیر  کی کشمکش کے اطراف گھومتا ہے، اور اسے  اس کشمکش  سے ہٹ کر سمجھنا مشکل  ہے۔چنانچہ، ناتجربہ کار اور ملحدانہ  ذہنیت  کے لوگ ،جب یہ خیال کرتے  ہیں  کہ عیسائی اچھائی  بھی شہری  اور فلسفیانہ  اچھائی جیسی  ہی ہوتی ہے،تو یہ غلط ہوتا ہے۔

پہلے ضمیر اعمال  کے نظریے سے  آلودہ   تھے، اور انہوں نے انجیل مقدس کی تسلی کو نہیں سنا۔ کچھ لوگوں کے ضمیر ان کو صحرا کی طرف ، خانقاہوں میں ہانک لے گئے، جہاں وہ یہ  امید کرتے کہ شائد وہ راہبانہ زندگی کی مدد سے  فضل وکرم حاصل کرلیں گے۔دوسرے لوگ  دوسری  طرح کے کاموں میں مصروف ہوگئے،اپنے گناہوں  کی تسکین  کرنے  اور فضل وکرم کے حصول کے لئے۔اسی وجہ سے  مسیح میں   عقیدے کے نظریے کو تازہ کرنے کے لئے اور اس پر گفت وشنید کرنے کی اشد ضرورت  تھی، تاکہ بے چین ذہن  بنا  تسلی کے نہ  رہ  سکیں اور یہ جان جائیں کہ وہ بھی مسیح پر ایمان  رکھ کر  رحمت، گناہوں  کی معافی، اور انصاف  حاصل کرسکیں  گے۔

ہم یہ  بھی انتباہ کرتے ہیں  کہ’ عقیدہ‘  کا مطلب  محض واقعات کی معلومات  رکھنا نہیں، جیسا کہ عقیدہ  جو برے لوگ اور شیطان رکھتا ہے۔ بلکہ  اس کا مطلب وہ  عقیدہ ہے  جو یہ کہتا ہے کہ صرف  تاریخ پر یقین مت رکھو،بلکہ  تاریخ کے نتیجے پر بھی یقین  رکھوـــــــــ مطلب،  یہ شق، گناہوںکی معافی، یعنی ہم کہہ سکتے ہیں  کہ  ہمیں مسیح  کے واسطے سے فضل ، اچھائی اور گناہوں کی معافی ملی۔

جو بھی یہ جانتا ہے   کہ اس کا باپ ہے، جو مسیح کے واسطے سے   اس پر مہربان ہے، حقیقتاً خدا کو جانتا ہے۔وہ جانتا ہے کہ خدا کو  اس کا خیال ہے، اور وہ  خدا  کو پکارتا ہے۔ مختصراً،وہ خدا کے بغیر کچھ نہیں، جیسا  کہ مشرکین ہیں۔ کیونکہ بدروحیں اور  برے لوگ اس شق پر پر یقین نہیں رکھتے: گناہوں کی معافی پر۔ اسی وجہ سے، وہ خدا سے  ایسے نفرت کرتے ہیں  جیسے کسی دشمن سے، وہ اسے نہیں پکارتے، اور وہ اس سے  اچھائی کی توقع نہیں رکھتے۔آگسٹن  بھی اپنے قارئین  کو   لفظ ’ عقیدے‘ کے بارے میں تنبیہ کرتا ہے ، اور ان کو تبلیغ  کرتا ہے کہ ’’عقیدے ‘ کی  اصطلاح صحیفوں میں اس طرح  کے علم کی نہیں جو برے   لوگ بھی رکھتے ہوں، بلکہ وہ اعتماد  جو  ڈرے ہوئے ذہن کو حوصلہ اورتسلی دیتا  ہے ۔

مزید برآں، ہم یہ   سکھاتے ہیں کہ اچھے  اعمال ضروری ہیں، اس لئے نہیں  کہ  ہم ان  پر رحمت کے معیار کا تعین کر سکتے ہیں، بلکہ اس لئے  کہ یہ خدا کی مرضی ہے۔ یہ عقیدہ ہی ہے جس کی وجہ سے ہم  گناہوں کی معافی  پا سکتے ہیں، اور  یہ مفت ہے۔ اور چونکہ عقیدے کے ذریعے ہی  مقدس روح  وصول  ہوتی ہے،دل نئی محبت سے معمور اور تازہ دم ہوتے  ہیں،نتیجتاً وہ اچھے  اعمال کرنے کے قابل ہو جاتے  ہیں۔ کیونکہ  امبروز  کا کہنا ہے: ’’ عقیدہ    نیک نیتی  اور اچھے  کاموں کی ماں ہے‘‘۔

کیونکہ مقدس  روح کے بغیر، ایک  آدمی  کی طاقتیں  بری خواہشوں سے معمور ہوتی ہیں، اور وہ ایسے کاموں میں بہت کمزور ہوتا ہے جو خدا کی نظر میں اچھے ہوتے ہیں۔اس کے علاوہ، وہ شیطان کی رسائی میں ہوتا ہے، جو آدمی کو برائیوں  ، بری  رائے، اور کھلے  جرائم کی طرف دھکیلتا  ہے۔ ہم  یہ فلسفیوں میں دیکھتے  ہیں، جو ایک  ایماندرانہ  زندگی  جینے  کی کوشش کرتے ہیں، لیکن کامیاب ہونے میں  ناکام رہتے ہیں، اور  خود کو کئی  کھلے  جرائم  سے آلودہ کر لیتے  ہیں۔ یہی  آدمی کی کمزوری ہوتی ہے  جب وہ   بنا عقیدے    کے، بنا مقدس روح کے  ہوتا ہے ،اور خود کو محض  انسانی طاقت سے چلاتا ہے۔

اس سے، ہر کوئی دیکھ سکتا ہے کہ ہمارا نظریے کو اچھے  اعمال سے روکنے پر مجرم نہیں گرداننا چاہیے؛ بلکہ اس کو سراہنا چاہیے، کیونکہ  یہ ظاہر کرتا ہے کہ کیسے ہم اچھے  کام کرنے کے قابل ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ عقیدے کے بغیر، ایسا کوئی ذریعہ نہیں کہ انسانی فطرت   پہلے اور دوسرے  احکامات کے کام کرسکے۔عقیدے کے بغیر، انسانی فطرت  خدا کو نہیں پکار سکتی، یا خدا سے کسی کام کی توقع کرسکے، یا  اس کی صلیب  پہن سکے، بلکہ وہ  آدمی  کا اعتماد اور مدد تلاش کرتا ہے۔جب خدا پر عقیدہ  اور اعتماد نہیں ہوتا،لہذا، ہر طرح کی ہوس  اور انسانی  خیالات دل  پر طاری  ہوجاتے ہیں۔ اسی وجہ سے مسیح فرماتے ہیں: ’’ میرے بغیر تم کچھ نہیں کر سکتے،‘‘ یوحنا 15:5۔ اور گرجا گھر گاتا ہے:

تمہاری  ابدی  رحمت سے محروم

انسان  میں کچھ نہیں رکھا،

اس میں کوئی معصومیت نہیں

شق  نمبر ۲۱: ولیوں کی عبادت پر

ولیوں کی عبادت پر ہم یہ سکھاتے ہیں کہ ہمیں ولیوں کو یاد رکھنا چاہیے، تا کہ ان کے عقیدے  اور اچھے کاموں  کی پیروی کرسکیں، ہماری دعا  کے مطابق۔ مثال  کے طور پر ، بادشاہ،   ترکوں کو ان کے ملک سے نکالنے کے لئے داؤد  کی جنگ میں حصہ لینے کی مثال کی پیروی  کرسکتے ہیں۔ کیونکہ  وہ دونوں بادشاہ ہیں۔ تاہم، صحیفے، ہمیں یہ نہیں سکھاتے  کہ ولیوں کو پکاریں یا ولیوں سے مدد مانگیں۔ اس کی بجائے، یہ ہمارے سامنے ایک مسیح  کو پیش کرتے  ہیں جو  کہ شفاعت کرنے والے  ہیں، کفارہ ادا کرنے والے، اعلیٰ ترین پادری، اور سفارش  کرنے والے  ہیں۔ ہمیں ان کی عبادت کرنی  چاہیے۔وہ وعدہ کرتے ہیں کہ وہ ہماری دعائیں سنیں گے، اور وہ اس عبادت کو سب سے بڑھ کر قبول کرتے ہیں،  کہ ہم مصیبت کے وقت میں ان  سے دعا کریں۔ ۱ یوحنا  2:1۔ ’’ اگر کوئی  انسان  گناہ کرتا ہے، ہمارے  پاس  باپ  کے ہمراہ  ایک  وکیل ہے،‘‘ وغیرہ۔

ہمارے تمام  نظریات میں بس یہی ہے،  جن میں، کوئی بھی دیکھ سکتا ہے،  کہ اس میں ایسا کچھ نہیں جو  کہ صحیفوں سے ، یا کیتھولک  کلیسا  سے، یا  روم  کے  کلیسا کے اپنے  لکھاریوں سے مختلف ہو۔ یہی معاملہ  ہے ، اور وہ  جو  ہمارے  استاتذہ کو  بدعتی   کہتے ہیں ، غلط رائے  رکھتے ہیں۔ تاہم ، کچھ  مخصوص گستاخیاں ہیں ، جن میں اختلافات  برقرار رہیں  گے، جو کہ  کلیسا  میں اجازت کے بغیر درانداز ہوگئی ہیں۔ اور ان مثالوں میں بھی، اگر کوئی اختلافات ہیں، تو بشپ حضرات کو  ہمارے  ساتھ  برتاؤ میں مناسب  تحمل ورواداری دکھانی چاہیے، اس اعتراف  کی خاطرجس کا ابھی ہم نے جائزہ لیا ہے  ۔آخرکار، مذہبی قوانین  اتنے بھی سخت نہیں کہ ہر جگہ  ایک جیسی  رسومات  کا مطالبہ کریں، اورتمام گرجا گھروں میں کبھی  بھی ایک جیسی رسومات کا اطلاق نہیں رہا۔  یعنی کہ، ہم احتیا ط سے ، زیادہ تر حصوں کے لئے، قدیم رسومات  کا جائزہ لیتے ہیں ۔ چنا نچہ، یہ الزام  ،  کہ  ہمارے  گرجا گھروں نے تمام رسومات  ، اور قدیم زمانوں  سے چلی آنے والی چیزیں ختم کردی ہیں، جھوٹ   اور بدخواہی ہے۔ لیکن یہ ہماری مشترکہ شکایت  ہے کہ  کچھ گستاخیاں عام رسومات  سے جڑی ہیں۔ہمیں ان  گستاخیوں کو یقینی طور پر ایک  حد  تک  درست کرنا  پڑا، کہ ہم ایک اچھا ضمیرہوتے  ہوئے یہ  دیکھ   کر اسے قبول نہیں   کر سکتے۔

نکات جن میں ہم نے گستاخیوں کا جائزہ  لے کر انہیں درست کیا

ہمارے  گرجا گھر  کیتھولک  چرچ کے ساتھ عقیدے   کی  کسی شق پر اختلاف نہیں رکھتے، لیکن  ہم نے صرف  چند  گستاخیوں  کو حذف کیا ہے جو کہ نئی ہیں، جو  کہ غلط طور پر زمانوں کی بد عنوانی سے ، آئین  کی خواہش کے برعکس قبول کر لی گئیں ۔ چنانچہ ،یہ معاملہ  ہوتے ہوئے،  ہم یہ دعا کرتے ہیں کہ   آپ شہنشاہ معظم مہربانی سے   دونوں کے  بارے میں گوش گزار ہوںکہ ہم نے کیا تبدیل  کیا ہے، اور وجوہات  کہ کیوں ہم نے لوگوں کو مجبور نہیں کیا کہ وہ  اپنے ضمیر  کے برخلاف ان  گستاخیوں کا  جائزہ لیں۔  شہنشاہ معظم آپ کو  ان لوگوں کا یقین نہیں کرنا چاہیے، تاکہ ہمارے خلاف لوگوں  کی  نفرت  کو بڑھاوا دے  کر  ،عجیب قسم کی غیبتیں   لوگوں میں  پھیلا رہے  ہیں۔اس طرح سے وہ اچھے لوگوں کے ذہن خراب کررہے ہیں، اور اس  بڑے  تنازعے کا باعث ہیں، اور اب وہ  اسی طریقے  سے، فساد بڑھانے کی کوشش کررہے ہیں۔ کیونکہ  شہنشاہ معظم  ملاحظہ کرلیں گے کہ  ہمارے نظریے کی صورت اور عمل اس قدر ناقابل برداشت  نہیں جیسا کہ یہ  بد خو  اور بدکار لوگ  دعوی کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، آپ عام افواہوں اور دشمنوں کی دشنام طرازی سے سچ معلوم نہیں کرسکتے۔لیکن کوئی بھی آسانی سے جائزہ لے سکتا ہے  کہ  تقریبات کا وقار قائم رکھنے کے  لئے، اور لوگوں کے درمیان  پرہیز گار عقیدت اور تقدس  کی  حوصلہ افزائی کے لئے، تقریبات کا  درست طریقے سے  انعقاد گرجا گھروں میں ہی کرنا ہوگا۔ 

 شق نمبر ۲۲: سیکرامنٹ  کی دونوں  طرزوں پر

عشائے ربانی کی مقدس رسم  کے دونوں  سیکرامنٹ  دنیا دار لوگوں   کو دیئے  گئے ہیں، کیونکہ اس روایت  کا حکم  رب کی طرف سے متی میں دیا  گیا  ہے۔   26:27: ’’ یہ پی  جاؤ، تم سب  کے سب ۔‘‘ مسیح  نے وہاں   واضح طور پر  ، کپ  سے متعلق حکم  دیا ،  جو کہ سب  کو پینا چاہیے۔ اور اگر کوئی  حیلہ جوئی  سے کہتا ہے  کہ  یہ صرف پادریوں سے متعلق کہا  گیا  ہے، پال  کا   ۱کرنتھی    11:27  میں سے ایک مثال کے   مطابق  بیان ہے،  جس سے  یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پورے اجتماع  نے  دونوں طرز میں حصہ لیا۔  اور طویل عرصے تک  گرجا گھر میں یہی  روایت  رہی،  نا ہی کوئی  جانتا ہے کہ کب او ر کس   کے حکم سے اسے تبدیل کیا گیا، اگرچہ کوسہ کے  کارڈینل  نکولس   نے   اس وقت کا ذکر کیا ہے جب  اس کو لاگو  کیا  گیا تھا۔سائپیرین  نے کچھ مقامات پر گواہی  دیتا ہے  کہ  لوگوں کو خون پیش کیا گیا۔ اسی بارے میں جیروم   نے گواہی دی جوکہتے  ہیں: ’’ پادریوں  نے  عشائے ربانی کا انتظام کیا، اور لوگوں کو  مسیح کا  خون تقسیم  کیا۔‘‘  بلاشبہ،  پوپ گیلاسیئس  کا اصرار ہے  کہ  مقدس رسم تقسیم کرنے کے لئے نہیں ( ڈسٹریبیوشن۔۲،ڈی کونسیکریشن، کیپ۔ کمپیریمس)

دوسری طرز  میں  آج کل  چند ایک  روایتوں میں  یہ موجود ہے۔ لہذا ،ظاہر ہے، ہمیں  خدا کے احکامات   کے  برعکس  متعارف کروائے گئے کسی رواج کی اجازت نہیں دینی چاہیے، جیسا کہ   مقدس آئین  میں    شہادت ہے( ڈسٹریبیوشن ۔۳۔کیپ۔ ویرٹیٹ، اور بعد کے ابواب)۔لیکن یہ  روایت  جوبعد میں ہم تک  پہنچی ہے، ناصرف  صحیفوں کے ، بلکہ پرانے   مقدس آئین اور کلیسا  کی مثالوں کے  بھی خلاف ہے۔ چنانچہ، اگر کوئی  دونوں طرز کے سیکرامنٹ کو استعمال کرنے کو ترجیح  دیناچاہتا ہے، توان کو  اپنے ضمیر کے  برعکس اس  کے علاوہ کرنے پر مجبور نہیں کرناچاہیے۔

کیونکہ  م سیکرامنٹ کو تقسیم کرنا  مسیح کے قانون  سے متفق نہیں، اس کے علاوہ ہم جلوس  کی رسم کو بھی  حذف کرنے کے عادی ہو چکے ہیں  جو ہم پہلے کیا کرتے  تھے۔

شق نمبر ۲۳: پادریوں کی شادی پر

ایسے  پادریوں کے بارے میں بہت سی شکایتیں ہیں  جو متقی نہیں۔ اس لئے بھی، کہا جاتا ہے،پوپ پائس نے  یہ تسلیم کیا، اگرچہ  اس  کی  وجوہات تھیں کہ  پادریوں کو شادی  سے روکا  گیا، لیکن  اس سے بھی زیادہ وزن  کی بات  ہے کہ  دوبارہ اجازت کیوں دی گئی( جیسا  کہ  بارٹولومیو پلاٹینا لکھتے ہیں)۔ چونکہ ، پادری  ان کھلے  بہتانوں سے دور  رہنا چاہتے  تھے،  اس لئے،انہوں نے  شادیا ں کیں، اور سکھایا  کہ   شادی کا رشتہ  ان کے لئے  جائز ہے۔ پہلے، کیونکہ پال      ۱کرنتھی    7:2 ,  9 میں  کہتے  ہیں: ’’ زنا کاری سے بچنے  کے لئے  ہر آدمی کو اپنی  بیوی  رکھنے  کی اجازت ہو نی چاہیے‘‘۔ اس کے علاوہ، ’’ شادی کر لینا  بہتر ہے جلنے سے ۔‘‘دوسرا، متی میں   19:11مسیح   کا فرمان ہے، ’’ تمام انسان  اس قول کو نہیں پاسکتے ‘‘، جہاں وہ  یہ تبلیغ کرتے  ہیں کہ سب انسان تنہا  زندگی گزارنے  کے قابل نہیں ہوتے،۔ آخرکار، خدا  نے انسان کو  افزائش نسل کے لئے پیدا کیا، جینسس  1:28کے مطابق  انسان کوئی طاقت نہیں رکھتا بغیر  اس واحد تحفے  اور عمل  کے ،جس سے وہ اپنی تخلیق کو بدل سکے۔ کیونکہ یہ واضح ہے،اور بہت سوں نے اسے قبول کیا، کہ کوئی اچھی، ایماندارانہ، پرہیزگار زندگی، اور کوئی عیسائی، مخلص، بلند اخلاق  نتیجتاً حاصل ہوا ہو (کوشش  سے )؛ لیکن بہت سے انسان اپنی زندگی کے اخیر تک ضمیر  پر ایک  خوفناک ،دردناک  بے چینی اور عذاب  سہتے  ہیں۔ اس لئے، وہ جو تنہا زندگی  گزارنے کے قابل نہیں ہیں ، ان کو شادی کرلینی چاہیے۔کیونکہ  نا تو کوئی انسانی قانون، نا   عہد، خدا  کے قانون اور احکامات کو رد  کرسکتا۔ اسی وجہ سے  پادری   سکھاتے ہیں کہ ان کے لئے جائز ہے کہ وہ شادی  کرکے بیوی رکھیں۔

یہ بھی ظاہر ہے کہ، قدیم چرچ  میں، پادری شادی کیا کرتے تھے۔ کیونکہ  پال کا   ۱ تیمتھیئس   3:2  میں  کہنا ہے، کہ   ایک بشپ کو  یہ منتخب کرنا  چاہیے  کہ   ایک بیوی کا  شوہر کون  ہونا  چاہیے۔ اور جرمنی میں، چار سو سال  پہلے پہلی دفعہ، پادریوں کو  کنوارگی کی زندگی گزارنے پر مجبور کیا گیا۔ بلاشبہ، انہوں نے اس کی  شدت سے مزاحمت کی کہ   ،جب مینز کے آرچ بشپ     ، غضب ناک  پادریوں کے ہاتھوں  اٹھنے والے ہنگامے میں تقریباً  مارے جانے  والے تھے  جو  اس   معاملے کے بارے  میں پوپ کا حکم  نامہ شائع کرنے  والے تھے ۔ اور معاملے کو   اس بے رحمی  سے  حل کیا   گیا کہ    شادی نا صرف  مستقبل کے  لئے ممنوع قرار  دی گئی  بلکہ  موجودہ شادیوں  کو ،خدا اور انسان  کے تمام   قوانین  کو بالائے طاق رکھتے ہوئے، ناصرف پوپ کے بنائے ہوئے  آئین    ، بلکہ   مقدس آئین کے  برعکس ختم  کردیا  گیا۔ مزید برآں، بہت سے  پرہیز گار اور اونچے مقام  کے مالک  دیندار  افراد  نے  اس پر مایوسی کا اظہار کیا  کہ اس طرح  کے بہ جبر تجرد  اور مردوں کو شادی  (جو  خدا نے خود بنائی  اور آدمیوں  کے لئے اس میں   آزادی  رکھی)سے محروم رکھنے سے کوئی کوئی اچھا نتیجہ نہیں نکلے گا  بلکہ  یہ بہت  سی برائیوں اور سرکشی کا باعث بنے گا۔

یہ دیکھتے  ہو ئے  کہ انسان  کی فطرت آہستہ آہستہ کمزور پڑجاتی ہے، جیسے جیسے   زمانہ  آگے  بڑھے، اچھا ہو گا  اگر  جرمنی میں مزید غیرقانونی  برائیوں کے خلاف    تحفظ  کر لیا  جائے۔

مزید برآں،  خدا نے  انسانی  کمزوریوں  کے خلاف مدد کے لئے  شادی  بنائی۔ مقدس آئین  خود کہتا  ہے کہ  اس وقت  کی  اور اب  کی پرانی سخت  گیری، اور بعد میں آنے والے وقتوں میں، کو انسان کی کمزوری کی بنا پر نرم کردینا  چاہیئے۔ ہم  امید کرتے ہیں  یہ اس معاملے میں  ہو جائے۔ ہم یہ بھی توقع رکھتے ہیں کہ     اگر شادی کو مزید  ممنوع رکھا گیا  تو کسی وقت گرجا گھروں  میں پادریوں کی کمی ہو جائے گی۔

اب خدا کے احکامات ایک جبر میں ہیں، گرجا گھر  کی روایت اب معروف ہے، اب داغدار تجرد  بہت   سی بدنامیوں، بدکاریوں، اور   دوسرے جرائم  جو کہ مجسٹریٹوں کی جانب سے قابل سزا ہوتے ہیں کا باعث  بن رہا ہے۔ اور پھر بھی،حیران کن طور  پر ،پادریوں کی شادیوں کے خلاف   کسی بھی  اور چیز کے برعکس  بے رحمی سے عمل درآمد  کیا جا رہا ہے۔ خدا  نے ہمیں حکم دیا ہے کہ شادی کو عزت دیں۔  مشترکہ اقوام کے تمام اچھی طرح  سے ترتیب شدہ قوانین  کے مطابق، یہاں  تک کہ مشرکین میں   بھی شادی  کو بہت  عزت دی جاتی ہے۔ لیکن  اب   اس پر، بلاوجہ شادی کی وجہ سے ، آئین  کی خواہش کے برعکس، مردوںاور پادریوں  کو،   موت کے گھاٹ پر اتارا جارہا ہے۔۱ تیمتھیئس ،   4:3 میں پال     اسے  بدروحو ں کا نظریہ قرار دیتے ہیں  کہ شادی کو ممنوع کیا جائے۔  اسے اب  اچھی طرح سمجھا  جانا چاہیے،  جب  وہ ایسی سزاؤں کے ساتھ شادی کے خلاف   قانون نافذ  کررہے ہیں۔

 تاہم ،آدمی کا کوئی قانون،  اور اسی طرح     نہ ہی  کوئی عہد خدا کا  حکم  رد  کرسکتا   ہے ۔ اسی طرح سائپیرین بھی صلاح دیتے  ہیں کہ  اگر کوئی  عورت   پاکدامنی  برقرار نہ  رکھ پائے جس کہ  اس نے عہد کررکھا ہو تو اسے  شادی کر لینی چاہیے۔

 : ’’  لیکن اگر وہ   راضی  نہ  (4.2خط ) اس کے الفاظ  اس طرح ہیں

ہوں یا محفوظ  رہنے کے قابل نہ ہوں، توبہتر ہے کہ اپنی  خواہشات کی  بنا  پر آگ میں گرنے  کی بجائے  شادی کرلیں؛ انہیں اپنے بھائیوں  اور بہنوں کو  یقیناً کوئی الزام  نہیں دینا چاہیے۔‘‘

یہاں تک کہ  مقدس آئین ان لوگوں   کے لئے بھی نرمی دکھاتا  ہے جنہوں  نے  عمر پوری  ہونے سے پہلے عہد  کرلیا ہو، جیسا کہ اب  سےپہلے عام طور  پر معاملہ ہوا کرتا تھا۔

شق نمبر ۲۴: دعا  ئیہ  تقریب پر

ہمارے گرجا گھر  غلط طور پر  دعا ئیہ  تقریب ختم  کرنے کے مجرم ٹھہرائے جاتے ہیں۔حقیقت میں  ہم دعا ئیہ  تقریب  ادا  کرتے ہیں، اور ہم   یہ   بہت عقیدت  مناتے ہیں۔ اس کے علاوہ   ہم روزمرہ  کی  رسومات   بھی ادا کرتے ہیں، سوائے کچھ جرمن   حمدوں کے جن میں  ملی جلی لاطینی شامل ہے، اور ہم  نے وہ  لوگوں کو  سکھانے کی  لئے شامل  بھی کی ہیں۔ کیونکہ  رسومات  صرف ایک  وجہ  کے لئے ضروری ہیں: جاہلوں کو تعلیم دینے  کے لئے۔اور ناصرف پال نے  حکم دیا  کہ چرچ میں ایسی زبان استعما ل کرنی چاہیے جو کہ لوگ سمجھ سکیں، ۱کرنتھی  14:2 – 9 ،  بلکہ انسانی قانون کے مطابق  چیزیں  قائم کرنی چاہیئں ۔ لوگ مقدس رسومات میں ایک ساتھ حصہ لینے  کے عادی  ہیں،اگر کوئی  اس  کے لئے موزوں ہے،اور یہ عوامی عبادت کی عقیدت اور احترام میں  بھی اضافہ کرتا ہے۔کیونکہ  کوئی  اسے قبول  نہیں کرتا جب تک کہ اسے جانچ  نہ لے۔ لوگوں کو  مقدس رسومات عظمت اور استعمال کے بارے میں بھی سمجھانا چاہیے،  جو  عظیم تسلی یہ بے چین ذہنوں کو یہ دلاتے ہیں،تاکہ وہ  خدا  پر یقین کرنا ،اوراس سے سب کچھ جو اچھا ہے کا پوچھنے اور توقع رکھنا   سیکھ جائیں۔ اسی طرح ان کو مقدس رسومات  کے بارے میں گمراہ کن تعلیمات کے بارے میں  بھی ہدایات  دینی چاہیئں۔ یہ عبادت خدا کو راضی کرتی ہے۔مقدس رسومات کا ایسا استعمال  خدا    سے سچی عقیدت  کو پروان  چڑھاتا ہے۔ لہذا، ایسا نہیں لگتا کہ    ہمارے درمیان  جتنی  عقیدت  سے  دعا منائی  جاتی  ہے ،اتنی ہمارے مخالفین کے    ہاں  ہوتی ہوگی۔

لہذا ،واضح طور پر، اور طویل عرصے تک، تما م  نیک آدمی پرزور  اور کھلے عام شکایت  کرتے رہے کہ  پیسہ  کمانے  کے لئے،دعا ئیہ  تقریب کو غلط انداز میں استعمال اور بدنام کیا جا رہا ہے۔ تمام گرجا گھروں میں یہ غلط  کاری کس  حد تک پھیل چکی ہے، اور کس طرح کے آدمی دعا کرنے کے لئے  رقم  اور نذرانے  بٹور رہے ہیں، اور کتنے ان کو آئین کے برعکس منا رہے ہیں،یہ  آشکار ہے۔ لیکن پال  سختی سے ان کو دھمکی  دیتا ہے جو ناجائز طور پر مقدس رسومات ادا کررہے  ہیں جب وہ  ۱  کرنتھی  11:27:  میں  کہتے

ہیں’’ جو بھی اس روٹی کو کھاتا ہے، اور اس   ربانی  کپ سے پیتا  ہے، ناجائز طور پر، وہ  رب کے جسم اور خون کا مجرم ہے ۔‘‘  لہذا، جب، ہم اپنے پادریوں کو اس گناہ  پر متنبہ  کرتے ہیں نجی  دعائیہ تقریبات ہمارے درمیان  ہونا بند ہو جاتی  ہیں، کیونکہ کوئی  بھی ایسی نجی دعائیہ تقریب  جو پیسوں  کے بغیر ہو منانی مشکل ہے۔

بشپ بھی ایسی بدعنوانیوں سے واقف تھے، اور اگر انہوں نے اسے وقت کے ساتھ درست کیا  ہوتا، تو اس وقت  اختلاف کم ہوتے۔ اس سے پہلے، جب  وہ خفیہ طور پر جانتے  تھے کہ کیا چل رہا ہے، انہوں بہت سی بدعنوانیوں کو گرجا گھر میں داخل ہونے دیا۔ اب، جبکہ بہت دیر ہو چکی  ہے، انہوں نے گرجا گھر  کے مسائل  کی شکایت کرنا شروع کردی  ہے، جبکہ یہ پریشانی   صاف طور پر ان غلط کاریوں کی وجہ سے واقع پذیر ہوئی ہیں جو اتنی واضح تھیں   کہ     ان کو مزید  برداشت  نہیں کیا  جا سکتا۔  مقدس  رسومات  سے متعلق ،دعا  ئیہ  تقریب کے بارے میں بہت زیادہ  نااتفاقی  رہی ہے۔  شائد دنیا کو   دعا  ئیہ  تقریب کی اس طویل بے حرمتی کی وجہ سے سزا ملی کیونکہ اسے  گرجا گھروں میں  کئی صدیوں تک برداشت کیا  جاتا رہا    وہ  بھی ان  لوگوں کی وجہ سے  جو قابل بھی تھے اور ان  پر اسے درست کرنے کی ذمہ داری بھی عائد ہوتی تھی۔

کیونکہ  د س احکامات میں، لکھا ہے  ایگزوڈس   20:7: کے مطابق ’’ خدا اسے بے گناہ نہیں سمجھے گا جو  بے  کار میں اس کا نام لیتا ہو۔‘‘  لیکن  ایسا لگتا ہے کہ جب سے دنیا بنی ہے، خدا کی مقرر کردہ چیزوں میں سے، غلیظ دولت کے  لئے ،کچھ بھی ایسا نہیں  جس کو دعا  ئیہ  تقریب سے زیادہ رسوا کیا گیا ہو۔

مزید برآں،  ایک ایسی  بات مشہور ہوگئی ،جس کی وجہ سے نجی دعائیہ تقریبات میں اضافہ ہونے لگا، یعنی کہ، مسیح نے، اپنے جذبے کی وجہ سے اصل گنا ہ کاکفارہ  ادا کیا   اورہمارے روزمرہ   فانی اور قابل معافی گناہوں کی خاطر دعا تخلیق کی  تاکہ  ہم  اپنے گناہوں کی معافی  مانگ سکیں۔اسی سے  ایک عام رائے  بن گئی کہ  دعا  زندہ اور مردہ  لوگوں کے گناہوں کو ایک  ظاہری  عمل سے دور  کرتی ہے۔تب لوگ شبے میں پڑنے لگے کہ  کیا ایک دعا  جو کئیوں کے لئے کی جاتی  ہے  کیا واقعی   اتنی  قابل قدر ہے  جتنی کہ   انفرادی لوگوں کے  کی جانے والی  خاص  دعا، اور  اس  سے  لامحدود   مجمع   نےدعا    ئیہ  تقریبات  کرنا شروع کردیں۔  اس عمل سے آدمی  خدا سے ہر وہ شے  مانگنے  لگے جس وہ  ضرورت رکھتے  تھے، اور اسی اثناء میں مسیح پر ایمان اور اصل عقیدہ بھلا دیا گیا۔

ہمارے  اساتذہ     نے ہمیں ان  آراء  کی طرف سے  نصیحت  کی، کہ  وہ مقدس  صحیفوں سے الگ  ہیں اور مسیح  کے جذبے کی عظمت کو میلا  کرتے ہیں۔   کیونکہ  مسیح کا جذبہ ایک  اطمینان اور قربانی پر مبنی  تھا، صرف  اصل  گناہ  کے لئے  نہیں، بلکہ دوسرے تمام  گناہوں  کے لئے بھی، جیسا کہ  وہ   عبرانیوں  10:10:  میں کہتے  ہیں ’’ ہمیں یسوع مسیح  کی دعاؤں  کی وجہ  پر ایک ہی بار تمام گناہوں سے پاک کردیا  گیا۔‘‘  اس کے علاوہ عبرانیوں 10:14:  میں   کہنا ہے: ’’ ایک ہی دعا سے  اس نے   ان سب کو کامل کردیا جن کو  گناہوں سے پاک  کیا  گیا ہے۔‘‘ 

گرجا گھر میں  ایک یہ من گھڑت    بدعت  بھی ہے کہ  یہ پڑھایا  جائے  کہ یسوع مسیح  نےاپنی موت  کے  ذریعے صرف  اصل گناہ  کا کفارہ ادا کیا  اور دوسرے گناہوں کا نہیں۔ اس کے  مطابق ہمیں  امید ہے  کہ ہر کوئی  یہ سمجھ جائے گا  کہ ہمارے پاس اس  غلطی کو درست کرنے کی ایک  اچھی وجہ موجود ہے۔

صحیفے یہ تبلیغ  کرتے  ہیں کہ  ہم  یسوع مسیح  پر عقیدہ رکھنے کی بنا پر  راست باز ثابت  ہوں گے، جب ہم یہ یقین رکھیں  کہ ہمارے گناہ یسوع  مسیح کی  وجہ سے بخشے جائیں گے۔اب  اگر  دعا کی وجہ سے زندہ اور مردہ لوگوں کے گناہ دھل  جاتے ہیں صرف ظاہری عمل کی بنا پر،  بخشش دعاؤں کے عمل سے  ہوجاتی ہے، اور عقیدے کی وجہ سے نہیں، تو اس کی  صحیفے اجازت نہیں دیتے۔

لیکن یسوع مسیح  ہمیں  لوکا    22:19:  میں حکم دیتے  ہیں ’’ یہ  مجھے یاد رکھنے میں  ہوتا  ہے۔‘‘ اس لئے دعا  ئیہ  تقریب بنائی گئی  تاکہ ان لوگوں کا عقیدہ جو مقدس رسومات  استعمال کرتے ہیں  کو یاد رکھنا چاہیے کہ یسوع مسیح  کے ذریعے کیا فوائد حاصل  ہوتے ہیں، اور بے چین ذہنوں کو مطمئن    اور پرسکون کرتا ہے۔کیونکہ یسوع مسیح کو یاد کرنے کا مطلب اس کے  فوائد کو یاد کرنا، اور یہ جاننا کہ وہ   واقعی  ہمیں  پیش کرتے ہیں۔ یہ کافی نہیں کہ صرف ان کی تاریخ کو یاد رکھا  جائے؛ کیونکہ یہودی اور بے دین لوگ بھی وہ یاد رکھ سکتے ہیں۔ لہذا، دعا  کو اس  طرف سے  استعمال کرنا چاہیے، کہ مقدس عشائے ربانی کا انتظام ان کے لئے کرنا چاہیے جن کو تسلی کی ضرورت  ہو؛ جیسا کہ امبروز کا کہنا ہے: کیونکہ میں ہمیشہ گناہ کرتا ہوں، میں دوا لینے پر مجبور ہوں۔‘‘ چنانچہ ان مقدس رسومات کو عقیدے کی ضرورت ہے،اور عقیدے کے بغیر  ان کا ا ستعما ل بے کار ہے۔

اب ،  چونکہ   دعا میں  میں مقدس   رسومات کی جاتی  ہیں، ہم ایک  مقدس عشائے  ربانی کا انعقاد  ہر  مقدس دن کریں،  اور، اگر کسی شخص کو  مقدس رسومات کی خواہش ، اور دوسرے دنوں  میں بھی،جب یہ ان کو دی  جاتی  ہیں جب  اسے  طلب کرتے   ہیں۔ اور یہ رواج گرجا گھر میں نیا  نہیں؛کیونکہ گریگوری سے پہلے  پادریوں نے  کبھی نجی  دعا کا ذکر نہیں کیا، مگر انہوں نے  عام دعا    مقدس  عشائے  ربانی  کا کافی ذکر کر رکھا  ہے۔چریسوسٹم کا کہنا ہے کہ  پادر ی روزانہ  منبر  پر آیا کرتے،  کچھ لوگوں کو مقدس عشائے ربانی کے لئے بلاتے  اور باقیوں  کو پیچھے  رکھتے۔ اور قدیم قانون  سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک  شخص نے دعا کی، جس سے  تمام دوسرے پریسبیٹر اور ڈیکن نے      یسوع مسیح کی لاش وصول کی؛  کیونکہ  نیقیائی  قانون کے الفاظ  بھی ایسے ہی کہتا ہے،پریسبیٹر کی پیروی میں مقدس عشائے ربانی  حاصل کرو، کسی بشپ سے یا کسی پریسبیٹر  سے۔‘‘ اور  پال کا     ۱   کرنتھی       11:33    میں مقدس  عشائے  ربانی  کے  بارے میں حکم ہے  کہ ہمیں  ایک دوسرے کا انتظار کرنا چاہیے، تاکہ مشترکہ طور پر  شریک ہو سکیں۔

اس لئے،  یہ دیکھتے ہوئے کہ دعا ئیہ  تقریب ، جیسا کہ ہم کرتے  ہیں، پادریوں اور صحیفوں  سے  لی گئی  ایک، گرجا گھر کی مثال  ہے، ہم  پراعتماد رکھتے ہیں کوئی بھی اس سے غیر مطمئن  نہیں ہو گا، خاص طور جب سے ہم عوامی تقریبات  دوبارہ  شروع کیں، کیونکہ زیادہ  حصہ وہی ہے جو پہلے تھا۔ صرف  دعاؤں کی تعداد مختلف  ہے، جو کہ، بلاشبہ بہت زیادہ  برے استعمال  سے فائدہ مند حد تک کم  ہوسکتی  ہیں۔ کیونکہ  پرانے وقتوں میں یہاں تک کہ اکثر  گرجا گھروں میں  ، دعا روز نہیں  کی جاتی  تھی، جیسا کہ ہم سہ فریقی  تاریخ  ( کتاب ۹ ، باب    ۳۸) :  ’’ اسکندریہ  میں دوبارہ، ہر بدھ  اور جمعے  کو صحیفے پڑھائے جائیں گے، اور ڈاکٹران کی تشریح کریں گے ، اور  مقدس رسومات   کی  مذہبی  رسم کے سوا تما م   کام ہوں گے ۔‘‘

شق نمبر ۲۵: اعتراف  پر

گرجا  گھروں میں اعتراف  ہمارے درمیان ختم نہیں ہو۔ اصل میں، عام طور پر ہم جو کرتے  ہیں  کہ یسوع مسیح  کے الفاظ  صرف ان کو دیئے  جاتے ہیں جن کو پہلے سے پرکھا  اور بخشا  گیا ہو، اور ہم  بہت احتیا ط سے  لوگوں کو نجات  کے عقیدے  کے بارے میں پڑھاتے  ہیں،جس کے بارے میں پہلے ایک گہری  خاموشی طاری تھی۔ ہم  اپنے  لوگوں کو  سکھاتے  ہیں کہ  انہیں نجات   کو  بے حد اہمیت  دینا چاہیے ،کیونکہ یہ خدا کی آواز ہے، اور خدا کے حکم سے  سنائی  گئی۔ چابیوں کی  طاقت  ان کی خوبصورتی میں رکھی گئی، اور لوگوں کو یہ یاد دلایا جاتا  ہے کہ  یہ  بے چین  ذہنوں کے لئے  کتنی بڑی تسلی لاتا ہے۔ہم ان یہ بھی یاد دلاتے ہیں کہ خدا کو عقیدہ بھی چاہیے، تاکہ یقین رکھا  جائے کہ ایسی نجات  ایک  ایسی  آواز ہے  جو جنت  سے سنی جاتی  ہے؛  اور یہ کہ یسوع مسیح  پر ایسا  عقیدہ حقیقتاََ      گناہوں   سے نجات حاصل  اور وصول کرتا ہے۔ پہلے لوگ    اطمینان  پر بہت  زیادہ توجہ  دیا کرتے تھے؛؛ کوئی بھی عقیدے  اور  یسوع مسیح  کے معیار  اور عقیدے کی درستگی  کا ذکر نہیں کرتا تھا۔ اسی وجہ سے، اسی نکتے پر ،ہمارے گرجا گھروں کو الزام  نہیں دینا  چاہیئے۔ بلاشبہ، ہمارے مخالفین   کو   ماننا چاہیئے کہ ہمارے اساتذہ  نے   توبہ کے متعلق  بہت دلجمعی سے پڑھایا  اور وضاحت  کی۔

لیکن اعتراف پر ہم یہ تبلیغ کرتے ہیں کہ گناہوں کا تفصیل وار بیان ضروری نہیں، اور ضمیر پر گناہوں کے شمار کا بوجھ ڈالنے کی ضرورت نہیں، کیونکہ گناہوں کو دوبارہ شمارہ کرنا ناممکن ہے، جیسا کہ میں بیان ہے 19:13: ’’ کون اپنی خطائیں سمجھ سکتا ہے؟‘‘ اس کے علاوہ جرمیاہ 17:9 میں بیان ہے’’: دل دھوکے باز ہے؛ کون اسے جان سکے گا؟ ‘‘ لیکن اگر کوئی گناہ معاف نہ ہو، سوائے ان کے جو دوبارہ بیان کئے گئے، ضمیر کو کبھی سکون نہیں ملے گا، کیونکہ بہت سے ایسے گناہ ہیں جن کے بارے میں نہیں جانتے یا وہ انہیں یاد نہیں۔ قدیم لکھاری بھی یہ گواہی دیتے ہیں کہ گناہوں کا شمار کرنا ضروری نہیں۔ کیونکہ چریسوسٹم کے فرامین میں حوالہ ہے، جو کہتا ہے: ’’ میں تم سے نہیں کہتا کہ خو د کو عوام میں ظاہر کرو، نہ ہی یہ کہ تم دوسروں کے سامنے خود کو مجرم ٹھہراؤ، لیکن میں تمہیں رسول کے حکم کی فرمانبرداری کا کہوں گا جو کہتے ہیں: خدا کے سامنے رستے کھول دو۔‘‘ چنانچہ اپنے گناہوں کا اعتراف خدا کے سامنے ،دعاؤں سےکرو جو اصل فیصلہ کرنے والہ ہے۔اپنی خطائیں بتاؤ، زبان سے نہیں، لیکن اپنے ذہن کی یاداشت سے۔‘‘ وغیرہ۔ اور گلوس ( توبہ ، امتیاز ۵، باب : بلحاظ) یہ قبول کرتی ہے کہ اعتراف صرف انسان کا حق ہے، صحیفوں کا حکم نہیں، بلکہ گرجا گھروں کی طرف سے بنایا گیا ہے۔ تاہم ، لیکن نجات کے عظیم فوائد کے حوالے سے، اور چونکہ یہ ضمیر کے لئے مفید ہے، ہمارے درمیان اعتراف موجود ہے۔

شق ۲۶: گوشت  کے امتیا ز پر۔

گرجا گھروں میں   جو  سکھا نے والے اور دوسرے لوگ دونوںگوشت کے امتیاز  کرنےکو ، اور اسی طرح کی  انسان کی  بنائی گئی روایات کواچھی  طرح سمجھتے ہیں،  کہ یہ  رحمت کے حصول کے لئے فائدہ مند ہیں، اور  گناہوں سے   تسکین دلاتی ہیں۔ اور یہ ظاہر ہے کہ  دنیا   اس  حقیقت  کی بنا پر  یہ سوچتی ہے کہ  نئی  تقریبات، نئے احکامات، نئے  مقدس دن، اور  روزوں کے نئے دن روز بنائے جاتے ہیں،اور  گرجا گھروں میں اساتذہ  نے رحمت  کے حصول کے لئے یہی  کام ایک   ضروری عبادت  کے طور کیا،اور انسانوں کے  ذہنوں  کو بے طرح مضطرب  کیا، اگر ان میں کوئی بھی    ان  چیزوں میں کسی ایک کو بھی  چھوڑتا۔  اس طرح کی  ورغلانے والے رواجوں کی وجہ  سے گرجا گھر کو بہت نقصان پہنچا۔

پہلے،  ان روایات نے عقیدے کی  راستبازی اور  رحمت کے نظریے کو دھندلا دیا، جو  کہ  انجیل کا اہم حصہ ہے۔  رحمت کے نظریئے کو کلیسا میں  نمایاں طور پر موجود ہونا چاہییے،تاکہ  مسیح کا درجہ زبان زد عام ہو،   اور عقیدے   کی ترقی کرے، جس میں یہ یقین ہو کہ  گناہ  مسیح کی وجہ سے بخشے  جائیں گے، اعمال سے کہیں بڑھ کر۔ اسی  وجہ سے پال بھی  اس  شق پر بہت  زور  دیتے  ہیں،قانون اور  انسانی  روایات کو ایک  طرف رکھتے ہوئے،  یہ  دکھانے کے  لئے  کہ عیسائی  اچھائی   ایسے اعمال سے کہیں بڑھ کر ہے، یعنی، عقیدہ   جس میں یہ یقین رکھا جاتا ہے کہ گناہوں  آزادی سے مسیح کے واسطے بخشا جائے گا۔ لیکن پال کے اس نظریے  کو  روایات کے ذریعے دبا   دیا گیا، جس سے  یہ  رائے  قائم ہوئی  کہ ہمیں گوشت     اور ایسی عبادات   کے بارے   میں امتیاز پیدا کرکے رحمت  اور  راستبازی  کا اندازہ لگانا چاہیئے۔ توبہ  پڑھاتے ہوئے، کوئی بھی عقیدے کا حوالہ نہیں دیتا،  وہ  صرف    تسکین والے اعمال  پیش کرتے ہیں،  اور ساری توبہ   انہی پر مشتمل لگتی ہے۔

دوسرا،  ان روایات نے  خدا کے احکام  کو دھندلا دیا ہے، کیونکہ روایات کو خدا کے احکامات سے کہیں اوپر   لے جایا  گیا ہے۔لوگ سوچتے ہیں عیسایئت  صرف کچھ مقدس دن منانے   ،رسومات،  روزوں   اور لباس  پر مشتمل ہے۔ ان روایات  نے خود اپنے  لئے بھی ایک روحانی  اور  مکمل  زندگی ہونے  کا ممتاز نام   حاصل کیا۔ اسی اثناء میں انہوں  نے   خدا کے احکامات کو کوئی عزت نہیں دی، ہر کسی  کے کہنے  کے مطابق،یعنی ،کہ  پادری  کو اپنے بچے پروان چڑھانے چاہیں، مان کو بچے پیدا کرنے چاہیں، شہزادے کو اقوام  مشترکہ  پر حکومت  کرنا چاہیئے، وہ سوچتے  کہ یہ کام  دنیاوی  اور نا قص  تھے، اور ان چمکتی دمکتی  روایات  سے کہیں  کم تر۔ اور  یہ غلطی نیکو کار  ذہنوں کو بری طرح اذیت  دیتی، جو  دکھی ہوتے کہ وہ   ایک  گناہ گار زندگی میں پھنس   گئے تھے،جیسا کہ شادی،مجسٹریٹ کے دفتر میں؛ یا  کسی بھی شہری انتظامیہ  میں۔ دوسری جانب،وہ لوگوں اور راہبوں کو سراہتے ، اور غلط طور پر  خیال  کرتے کہ  ان لوگوں کی زیارت کرنا خدا کے لئے  زیادہ قابل قبول ہو گی۔

تیسرا، روایات  ذہنوں کے لئے ایک بہت بڑا  خطرہ لائیں، کیونکہ تمام روایات کو رکھنا  ناممکن تھا، اور پھر بھی لوگ  یہ  فیصلہ کرتے  کہ  یہ روایات عبادت کے عمل کے لئے ضروری ہیں۔گرسن  لکھتے  ہیں کہ بہت سے مایوسی میں پڑگئے،اور کچھ  نے تو خودکشی کر لی، کیونکہ انہوں نے محسوس کیا کہ وہ  وہ روایات کو مطمئن کرنے کے قابل نہیں، اور ، ان کے پاس سب کچھ ہے لیکن وہ  عقیدے کی راستبازی  اور رحمت  کے بارے میں کوئی تسلی نہیں سن سکے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ سمسٹس اور   مذہبی  عالموں  نے روایات اکٹھی کیں، اور نرمی  تلاش کی  جہاں سے وہ ذہنوں کو پرسکون کرسکیں، اور پھر بھی وہ کافی  حد تک رکاوٹیں دور نہ  کرسکے، لیکن کسی وقت  ذہنوں کو مزید  الجھا   دیتے۔ اور  اسکول اور خطبے ان روایات کو اکٹھاکرنے   میں اتنے  زیادہ   مصروف ہیں کہ  ان کے پاس  صحیفے پڑھنے کا  وقت ،  او ر   عقیدے کے مزید فائدہ مند  نظریے     تلاش کرنے،صلیب سے، امید  رکھنے سے، شہری معاملات کی عظمت کا ، آزمائے جانے والے ذہنوں کو تسلی  دینے کا وقت  نہیں  رہا۔  چنانچہ گرسن  اور  کچھ دوسرے  مذہبی   مفکروں نے افسوس  کے ساتھ شکایت کی کہ  روایات  سے متعلقہ  کوششیں     انہیں  بہتر قسم کے نظریہ پر توجہ  دینے سے  روکتی ہیں۔ آگسٹن بھی منع کرتا ہے کہ  ایسے رواجوں سےانسانوں کے ذہنوں پر بوجھ ڈالنا  چاہیئے، اور احمقانہ  طور پر  جنوریئس  کو مشورہ  دیا کہ اسے معلوم ہونا چاہیے  کہ  ان    چیزوں کا لا تعلق انداز میں مشاہدہ  کیا جانا  چاہیئے؛ یہی اس کے الفاظ تھے۔

انہی  وجوہات کی بنا پر ہمارے اساتذہ نے اس معاملے کو اٹھایا، نہ تو  بشپ  حضرات سے نفرت  کی وجہ    سے اور نہ ہی  سختی سے،جیسا  کہ کچھ غلط انداز میں شبہ کرتے ہیں۔کلیسا ؤں کو  ان خطاؤں کے بارے میں تنبیہ کرنے کی بے حد  ضرورت  ہے، جوروایات  کی  غلط فہمیوں سے اٹھ رہے  ہیں۔کیونکہ انجیل  ہمیں پابند کرتی ہے کہ  گرجا گھروں پر رحمت  کے نظریے، اور عقیدے کی راستبازی  کے بارے میں زور دینا چاہیئے۔ لوگ ان کو نہیں سمجھتے، تاہم، اگر وہ یہ سوچتے ہیں کہ وہ  اپنی مرضی    سےتہواروں سے رحمت   حاصل کر سکتے ہیں۔

چنانچہ،  اس طرح سے، ہم نے  سکھایا کہ  آدمی  کی بنائے گئے   تہواروں   کو منا کر ہم رحمت  حاصل نہیں کرسکتے یا    بخشے جا سکتے ہیں ، اور اس لئے ہمیں یہ نہیں سوچنا  چاہیئے  کہ ایسے تہوار  عبادت  کے لئے ضروری عمل ہیں۔ ہم  اب صحیفوں سے شہادتیں شامل کرتے ہیں۔  یسوع  مسیح  ،  15:3 میں  نبیوں  کا دفاع کرتے  ہیں جنہوں  نے  کبھی  عام   اور 9 متی

روایات نہیں منائیں( جوکہ، تاہم، ایسا معاملہ محسوس ہوتا ہے  جو  ناجائز نہیں، لیکن  لاتعلقی  ہے، پانی  کی پاکی  کے بارے  کے قانون  سے متعلق، اور انہوں نے فرمایا، ’’وہ  بے سود  میری  عبادت  کرتے ہیں  آدمی کے  احکامات پر۔‘‘ چنانچہ، وہ ایسی بے کار  قسم کی  عبادت نہیں چاہتے۔ اس کے فوراََ بعد وہ اس میں اضافہ  کرتے ہیں: ایسا نہیں  کہ جو انسان  کے منہ میں جاتا ہے وہ اسے ناپاک کردیتا ہے۔‘‘  اس لئے پال کا    رومیوں 

: میں کہنا  ہے :’’ خدا کی  بادشاہی  کھانے اور پینے میں نہیں۔‘‘14:17

کلسیئوں 2:16, 20-21: میں  ہے: ’’ تو کسی  کو اجازت مت دو کہ وہ کھانے ، یا پینے، یا  کسی میلے سے یا سبت  کے ذریعے  تمہارا مشاہدہ کرے۔‘‘ اس کے علاوہ:’’ اگر تم یسوع مسیح کے  ساتھ  دنیا کے بنیادی اصولوں  کے ساتھ مرتے  ہو،کیوں ، گویا  دنیا  میں رہتے ہوئے ، کیا تم خود کو  ضابطوں کا  پابند کرتے ہو: کیا تم چھوتے نہیں، کیا تم چکھتے نہیں ،  کیا تم سنبھالتے نہیں؟‘‘ اور پیٹر کا     اعمال   15:10: میں کہنا  ہے لہذا ، اب، کیوں تم اپنے  شاگردوں کی گردن میں جوا ڈال کر  خدا کا  امتحان لیتے ہو جو نہ تو  ہمارے پادری اور نہ  ہی ہم برداشت  کرنے کے قابل تھے ۔ لیکن ہم یقین رکھتے ہیں کہ خداوند یسوع مسیح کے فضل وکرم ہم اسی  طرح بچا لیئے  جائیں گے جیسا کہ وہ۔یہاں پیٹر ہمیں  کئی رسومات  سے ذہنوں  پر بوجھ ڈالنے سے منع  کرتے ہیں، چاہے وہ موسٰی کی طرف سے ہوں یا دوسروں   کی طرف سے۔۔ اور  اتیمتھیسئس    4:1, 3 میں پال گوشت   کی مما نعت   کو شیطان  کا  نظریہ  کہتے  ہیں۔ کیوں؟ کیونکہ انجیل مقدس  ایسے کام کرنے یا ایجاد کرنےکے  خلاف ہے، تاکہ ان کے ذریعے رحمت  کا حصول کیا  جا سکے، گویا عیسائیت خدا کی اس جیسی  عبادات  کے بغیر وجود نہ رکھتی  ہو۔

یہاں ہمارے مخالفین اعتراض  کرتے ہیں کہ ہمارے اساتذہ ، جووینئن کی طرح، نظم و ضبط اور جسم کو تکلیف پہنچانے  کے خلاف ہیں۔ لیکن ہم اپنے اساتذہ کی تحریروں  کے برعکس  چلتے  ہیں۔ کیونکہ انہوں  نے ہمیشہ صلیب کے متعلق پڑھایا  کہ عیسائی  ہمیشہ مصائب  سے فائدہ حاصل کرتے  ہیں۔یہ بہت  سچی، پرخلوص، اور   خالص       نفس کشی  ہے ، یعنی  کئی طرح کے مصائب  میں گرفتار  رہنا ، اور  یسوع مسیح کے  ساتھ  مصلوب ہو نا۔

مزید برآں،ہم تبلیغ کرتے  ہیں  کہ ہر  مسیحی کو اپنی تربیت کرنی چاہیے  اور جسمانی  مشقتوں  ، جسمانی مشقوں  اور مشقت  سے خود کوقابو میں رکھنا  چاہیئے، تاکہ نہ تو آسودگی  اور نہ ہی کسل مندی  ان کو گناہوں  کی طرف راغب کر سکے، لیکن یہ نہیں کہ ہم ان کے ذریعے رحمت  پا سکیں   یا  ان مشقوں  کے ذریعے گناہوں کا  ازالہ کر سکیں۔  اور اس  طرح  کے بیرونی  نظم وضبط  کی ہمیشہ حوصلہ افزائی کرتے رہنا چاہیے،   صرف چند مخصوص دنوں کے لئے نہیں۔  یسوع مسیح  اس کا حکم   لوکا  21:34: میں ایسے دیتے  ہیں: ’’ لیکن خود سے  آگاہ رہو، کہیں تمارے دل  عیش وعشرت میں نہ پڑ جائیں۔‘‘ اس کے علاوہ   متی  17:21:  میں ہے: ’’  ا اس طرح کے لوگ  باہر نہیں جاتےسوائے نماز او ر روزوں کے‘‘ پا ل بھی       اکرنتھی  9:27 : میں کہتے ہیں، میں  اپنے جسم کو نظم وضبط  دے کر  اس کو تابع کرتا ہوں۔‘‘  یہاں وہ واضح طور پر  ظاہر کرتے  ہیں کہ وہ  ،اس نظم وضبط کی وجہ اپنے گناہوں کی معافی کا اندازہ  لگانا نہیں،  بلکہ  اپنے جسم کو تابع  کرنے اور  روحانی  چیزوں کے   موافق بنانے کے لئے ہے، اور اس کے حکم کے مطابق اپنے  فرائض ادا کرنے  کے لئے   ہے۔ اس لئے، ہمیں روزوں کی مذمت نہیں کرنی چاہیئے،  لیکن ایسے رواجوں کی جومخصوص دن  اور گوشت  ذہنی خطرے  کے ساتھ تجویز کرتے ہیں،گویا ایسے کام  عبادت کی   ایک ضروری صورت  ہوں۔

تاہم،ایسے ہی کچھ رواجوں میں ہمارا بھی حصہ رہا ہے، جن کا گرجا گھروں میں اچھا حصہ رہا ہے، جیسا کہ  دعا میں  اسباق  کی ترتیب، اور اہم مقدس ایام۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہم لوگوں کو تنبیہ کرتے ہیں کہ  ایسے  عمل خدا  کے سامنے  بخشش نہیں کرتے، اور ایسی چیزوں  میں گناہ کا ارتکاب نہیں  کرنا چاہیے اگر وہ کسی  جرم کے بغیر ہوں۔ انسانوں کی بنائی ہوئی روایات  میں ایسی آزادی کے بارے  میں پادری حضرات  خوب  جانتے  تھے۔ کیونکہ  مشرق میں  وہ  ایسٹر کو اس وقت  سے  مختلف رکھتے تھے  جو کہ روم میں تھا، اور جب روم نے  شیزم کے گرجا  گھر کو  اس فرقہ واریت پر مجرم ٹھہرایا، تو دوسروں نے  انہیں متنبہ کیا کہ ایسا  استعمال  ہر جگہ  ایک  جیسا ہونا ضروری نہیں۔ اور  آئرینئس کا  کہنا ہے: ’’ روزوں کے  مختلف ہونے سے  عقیدے  کی ہم آہنگی   تباہ نہیں ہوتی۔‘‘          پوپ گریگوری   بھی    ڈسٹریبیوشن ۔۱۲میں اس کی توثیق  کرتے ہیں کہ اس طرح  کے اختلاف  سے  گرجا گھر کے اتحاد کو نقصان نہیں  پہنچاتے۔  اور سہ فریقی تاریخ ، کتاب  ۹ میں  بیان ہے کہ  بہت سی متنوع    روایات کی مثالوں کا مجموعہ ہے، اور  یہ الفاظ   تحریر ہیں: ’’ یہ انجیل   مقدس کا   ذہن  نہیں کہ  مقدس دنوں سے  متعلق  اصول و قواعد وضع کرے، بلکہ    پرہیزگاری اور مقدس زندگی کے بارے میں تبلیغ  کرنا ـــــــ اور محبت اور عقیدے کے بارے میں سکھانا۔

شق نمبر ۲۷: راہبانہ  عَہدوں  پر

یہ سمجھنا آسان ہو گا  کہ خانقاہی  عَہدوں  پر ہم کیا سکھاتے ہیں، اگر ہم یاد کریں کہ خانقاہیں کس حال میں تھیں، اور،مقدس قوانین کے برعکس ، روزانہ  انہی خانقاہوں میں کتنا کچھ ہوا کرتا تھا۔ آگسٹن  کے وقتوں میں وہ  آزاد  تنظیمیں  تھیں۔اس کے بعد، جب نظم وضبط  بگڑا، ہر جگہ  نظم وضبط بحال کرنے کی خاطر،عہد شامل  کئے گئے،جیسا کہ احتیاط سے تیار کی گئی کسی  جیل میں  کئے جاتے ہیں ۔

آہستہ آہستہ عہدوں کے ساتھ ، مزیدکچھ  رسوم کا اضافہ  کیا گیا۔ اور بہت سے  لوگ  قانونی عمر  پہنچنے سے پہلے  ہی  مقدس قانون کے برعکس،  ان بیڑیوں میں جکڑدیے جاتے۔

بہت سے لوگ اس طرح کی زندگی میں جہالت  کی وجہ سے  پڑگئے ،کیونکہ انہوں نے اپنی طاقت کا غلط اندازہ لگایا، اگرچہ  وہ بڑھاپے  میں تھے۔ اس طرح سے  وہ  جال میں پھنس گئے، اور وہیں رہنے پر مجبور ہوگئے،اگرچہ   ان  میں سے کچھ  مقدس قانون  کی پیش بینی کی بنا پر اس سے آزاد  کیا  جا سکتا  تھا۔ اس سے بھی بڑھ کر صورتحال  خواتین کی خانقاہوں میں تھی،اگرچہ  صنف نازک  کی جانب مزید توجہ دی جا سکتی تھی۔اس سخت کوشی نے  بہت سے نیکو کار بندوں  کو اب سے پہلے  ناخوش کیا، جنہوں  نے دیکھا کہ  نوجوانوں اور لڑکیوں کوخانقاہوں میں  دھکیل  کرزندگی  گزارنے  پر مجبورکردیا گیا۔انہوں نے دیکھا کہ کیسے بدقسمت نتائج اس سے  پیدا ہوئے، کیسی  بدنامیاں اس سے وجود میں آئیں ، اور ذہنوں پر کیسے پھندے ڈال دیے  گئے۔ وہ افسوس زدہ  تھے  کہ مقدس قانون کی حاکمیت  کو  اس   بے حد خوفناک معاملے  میں مکمل طور پر نظر انداز  اور ناپسند کیا جا رہا تھا۔ اور  ان برائیوں سے بھی بڑھ کر،عہد کے بارے میں ایسی رائے  اٹھنے لگی،جو ایک وقت میں تو شائد  راہبوںکو خود بھی  ناگوار لگی ہوگی، کم از کم ان کو  تو ضرور  جو  زیا دہ ہمدرد  تھے۔ وہ سکھا رہے تھے کہ عہد بپتسمہ  کی طرح  کے  تھے؛ وہ پڑھا رہے تھے کہ  اس طرح کی زندگی  سے وہ  خدا کے سامنے گناہوں  سے معافی، اور  بخشش  کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ اس سے بھی بڑھ کر، انہوں  نےاضافہ کیا کہ خانقاہی زندگی سے، ہی صرف  خدا کے سامنے راست بازی  پائی جا سکتی ہے ، کیونکہ یہ   ناصرف احکامات بلکہ انجیلی  مشاورت  کو بھی برقرار رکھتی ہے۔

اس طرح  وہ لوگوں  کو پھانستے کہ خانقاہی  پیشہ بپتسمہ سے کہیں بڑھ کر بہتر ہے، اور پادریوں کی زندگی، اور اس طرح کے دوسرے لوگ، جو انسانوں کی  بنائی  ہوئی  خدمات کی بجائے،  خدا  کے احکامات کے مطابق       اپنے فرائض بجا لاتے ہیں۔ ان میں  سے کسی چیز سے اختلاف نہیں کیا جا سکتا؛ کیونکہ یہ ان کی کتابوں میں پائی جاتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک شخص جو اس طرح پھانس کر خانقاہ میں  داخل  کیا جاتا ہے یسوع مسیح  کے بارے میں بہت کم جان پاتا ہے۔

پھر ، آخر خانقاہوں میں  کیا ہوتا ہے؟ کسی زمانے میں وہ مقدس علم  کی درس گاہیں تھیں، اور اس جیسے  دوسرے علوم جو کہ  کلیسا کے لئے مفید تھے۔ وہ پاسٹر اور بشپ تیار کرتے تھے۔ اب ایک  مختلف کہانی ہے۔ضروری نہیں ہے ہر وہ بات دوبارہ  دہرائی جائے جس کے بارے میں سب جانتے ہیں۔ پہلے وہ علم حاصل کرنے کے لئے جمع ہوا  کرتے تھے؛ اب وہ  دکھاوا کرتے ہیں اس طرز کی زندگی  کا اہتمام پرہیز گاری اور رحمت  حاصل کرنے کے لئے  ہے۔ اس سے بھی بڑھ کر،وہ تبلیغ  کرتے ہیں، کہ یہ  کاملیت کی  ایک حالت ہے، اور وہ اسے دوسرے خدائی وضع کردہ  زندگی گزارنے  کے طریقوں سے کہیں اوپر رکھتے  ہیں۔ ہم نے ان چیزوں کو  بنا  کسی نفرت  یا کچھ  بڑھا چڑھا کر   بیان نہیں کیا، تاکہ ہمارے اساتذہ کا  اس نکتے  پر نظریہ  بہتر طور پر سمجھا  جا سکے۔

پہلے،  وہ جو شادی شدہ  ہیں ان کے متعلق، ہم یہ سکھاتے  ہیں کہ  جو لوگ  مجرد  زندگی گزارنے  کے لائق نہیں  ان کو شادی کی  اجازت ہے، کیونکہ  عہد خدا کے احکامات  کو ختم  نہیں کرسکتے۔ لیکن خدا کا حکم ہے،  ۱ کرنتھی     7:2:   کے مطابق  ’’ زناکاری  سے بچنے کے لئے  ہر شخص کو اپنی  بیوی  رکھنے دو۔‘‘  یہ صرف ایک حکم ہی نہیں  ہے،بلکہ خدا کی تخلیق اور اور قانون  ہے، جو  ان لوگوں کو شادی  پر مجبور کرتا ہے   جو  صرف  خدا کے کاموں سے مستسثٰنی ہیں، ٹیکسٹ جین 2:18: کے مطابق ’’   یہ  اچھا نہیں کہ آدمی تنہا رہے۔‘‘ اس لئے  خدا کے قانون  اور حکم  کی اطاعت کرنا کوئی  گناہ نہیں۔

اس پر کوئی کیا اعتراض کر سکتا  ہے؟ وہ عہد کی   پابندی  کی جتنی چاہیں تعریف  کریں  انہیں کرنے دیں، لیکن وہ خدا احکامات کو  کسی بھی عہد کے ذریعے منسوخ  نہیں کر سکتے! مقدس  قانون سکھاتا ہے کہ   ہر عہد میں اعلیٰ ترین  کو استثنیٰ کا حق  حاصل  ہے، اور عہد پوپ کے فیصلوں  کے خلاف   نہیں لئے جا سکتے،  لہذا،  بہت  کم ،ایسے عہد باندھنا چاہیئں    جو خدا کے احکامات کے برخلاف    ہیں ۔

اب، اگرعہد  کی پابندی کسی  بھی وجہ  سے تبدیل نہیں کیا جا سکتاتھا، پاپائے روم   نے  استثناء  نہ  دیا  ہوتا ؛ کیونکہ  آدمی  کو کوئی حق  نہیں کہ   کسی پابندی کو منسوخ کرے جو  مکمل طور پر خدائی ہو۔ لیکن پاپائے روم   نے ہوشیاری  سے  اندازہ لگا لیا کہ اس پابندی میں نرمی  دکھائی  جارہی  ہے، اور اس لئے  ہم  پڑھتے ہیں کہ بہت دفعہ وہ  عہد سے  آزاد کر دیئے گئے۔

شاہ ایراگون کا معاملہ مشہور ہے جن کو خانقاہ سے واپس  بلا لیا گیا تھا، اور اس کے علاوہ  ہمارے  اپنے  وقت  کی  مزید  کئی مثالیں بھی  موجود ہیں۔ اس  لئے یہ ممکن ہے  کہ    دنیاوی  دلچسپیوں  کی خاطر اس استثناء کی اجازت  دی جائے  ،  یہ بہت زیادہ موزوں ہو گا  اگر روح کی تکلیف کے باعث   اس  کی اجازت  دی جائے۔

دوسری طرف، کیوں ہمارے مخالفین عہد کی پابندی  یا اثرات کو بڑھا  چڑھا کر بیان کرتے ہیں جب کہ، اسی وقت وہ  خودعہد کی قسم کے بارے میں کچھ نہیں بتاتے،کہ یہ اس پر ہونا چاہیئے جو ممکن ہو،  کہ یہ رضا کارانہ ہو، اور خواہش پر لیا گیا ہو اور عمداَََ  لیا گیا  ہو۔ لیکن، ہر  کوئی جانتا  ہے انسان  ابدی  پاکدامنی  کے کس قدر  قابل ہو سکتا  ہے۔ اور  کتنے  کم لوگ ہیں جنہوں  نے خوشدلی  اور  غور وخوض  کرکے  عہد  لیا ہو! لڑکے  اور لڑکیاں ،اس سے  پہلے کے وہ  فیصلہ کر سکیں، ورغلا لئے گئے، کئی دفعہ تو عہد لینے پر مجبور کر دیئے  گئے۔ اسی لئے  اتنی شدو مد سے  پابندی  پر زور نہیں دینا چاہیئے، چونکہ ہر کوئی متفق ہے  کہ    یہ عہد کی فطرت کے خلاف  ہےکہ   بغیر  کسی اجازت اور درست  غور وخوض کے یہ  لیا جائے۔

مقدس  قانون کے زیادہ تر قوانین    ایسے عہد کو منسوخ کرتے  ہیں جو پندرہ سال کی عمر سے پہلے  کئے  جائیں، کیونکہ  اس عمر سے پہلے ان   میں  اتنی صلاحیت نہیں  ہوتی کہ وہ کوئی  فیصلہ کر سکیں جو  ان کی باقی زندگی پر اثر انداز ہوسکے۔ ایک اور قانون جو آدمیوں  کی کمزوریوں  پر مزید اجازت دیتا ہے، چند سالوں کا مزید اضافہ کرتا  ہے؛ کیونکہ  یہ  اٹھارہ سال کی عمر سے پہلے عہد کرنے پر پابندی لگاتا  ہے۔ لیکن  ان میں سے کون سے  قوانین  کی ہم پیروی کرتے ہیں؟ ایک بڑی تعداد  کو  خانقاہیں چھوڑنے پر معافی  ہے کیونکہ  ان میں سے زیادہ تر نے اپنی عمر پوری ہونے  سے پہلے ہی عہد کر لئے۔

آخر میں،ایسے معاملات جن میں  عہد  توڑنے پر برا بھلا کہا جا سکتا ہے، لیکن یہ   ایسا نہیں لگتا کہ یہ  ایسے لوگوں  شادیا ں تڑوانے پر سیدھی  طرح  پیروی  کرتا ہو۔ کیونکہ  آگسٹن  ، جن کی   بات میں کچھ  وزن ہے، اس  بات کو رد کرتے ہیں کہ  انہیں ختم کردینا چاہیئے، چاہے دوسرے لوگ  بعد میں  مختلف اندا ز  میں سوچیں ( آگسٹن  ، ۲۷ سوال  نمبر ۱۔  باب، نپٹیارم)

لیکن اگرچہ خدا کے شادی  سے متعلق حکم          زیادہ  تر لوگوں کو   اپنے  عہد سے   رہائی دلواتا ہے، پھر بھی ہمارے اساتذہ عہد سے متعلق ایک   دلیل متعارف کرواتے ہیں،  یہ  ظاہر کرنے کے لئے کہ یہ منسوخ ہیں۔ کیونکہ   خدا کی  ہر عبادت کے لئے،  آدمیوں  میں سےمقرر کردہ اور منتخب کردہ ، بنا خدا کے حکم کے تاکہ بخشش اور رحمت  حاصل کی جا سکے، مکاری ہے جیسا  کہ یسوع مسیح  کا متی  15:9: میں کہنا ہے’’ وہ  انسانوں کے کہنے پر بے کار میں میری عبادت کرتے ہیں۔‘‘  اور پال ہر جگہ سکھاتے ہیں کہ  پرہیزگاری کو  ہماری  اپنی، انسانوں کی بنی   روایات  یا عبادت کے عمل  سے  حاصل    نہیں کیا جا نا چاہیے، بلکہ یہ عقیدے  سے  ان لوگوں میں  آتی ہے جو یقین رکھتے  ہیں کہ انہیں خدا کی رحمت  میں یسوع مسیح  کی  خاطر لیا جائے گا۔

راہب کو واضح  طور پر پڑھایا جاتا ہے، لہذا، یہ انسانوں  کے بنائے گئے رواج گناہوں  کے لئے تسکین کا باعث  ہو سکتے ہیں ، اور رحمت  اور بخشش کا ذریعہ ہو سکتے  ہیں۔ یقیناََ یہ صرف  یسوع مسیح کی عظمت  سے  الگ  کرتے  ہیں، اور عقیدے  کی راستبازی کو جھٹلاتے  اور  دھندلاتے ہیں؟  لہذا، اس کے بعد ، یہ عہد جو  بہت عام  ہیں عبادت کی ایک   ناپاک  شکل ہیں، اور اسی وجہ سے  یہ منسوخ ہیں۔ کیونکہ ایک  بر ا عہد جو خدا کے حکم کے بغیر اٹھایا  گیا ہو، درست نہیں؛ کیونکہ  مقدس قانون کے مطابق، کوئی بھی عہد  بے انصافی سے  نہیں جڑا ہونا  چاہیے۔

پال  کا  گلتیوں 5:4:  میں کہنا ہے، ’’ یسوع مسیح کا تم پر کوئی   اثر نہیں، تم  جو قانون کی نظر سے   درست ہو؛ تم جو رحمت سے محروم  ہوگئے  ۔‘‘ اس لئے، وہ دوسرے بھی جو اپنے عہد کی وجہ سے   بخشے جانا چاہتے ہیں، ان پر یسوع مسیح کا  کوئی اثر نہیں، اور وہ رحمت سے محروم ہوئے۔ اور وہ  جو  اپنے  اعمال کو   عہد کے     جواز  کا خاصہ سمجھتے ہیں   جو کہ  اصل میں یسوع مسیح کی شان  سے تعلق  رکھتے ہیں۔

بلاشبہ، کوئی بھی اس سے  انکار نہیں کرسکتا کہ راہبوں نے وہ پڑھایا، اپنے رواجوں اور عہدوں سے،وہ بخشے جائیں گے،اور  گناہوں کی معافی سمجھی۔ اس سے بھی  بڑھ کر ، انہوں نے اور بھی مضحکہ  خیز دعوے  گھڑ لئے، اور کہا کہ وہ اپنے اعمال کو دوسروں  کے ساتھ بانٹ  سکتے ہیں۔ اگر ہم    اس  بے کار بحث میں الجھنا  چاہتے  ، اور ان چیزوں کو  مزید کھینچنا چاہتے، تو  بہت   اور چیزیں اکٹھی کرلیتے  جو کہ راہبوں تک کو شرمسار کر دیتیں!  اس سے بھی بڑھ کر، وہ لوگوں کو ورغلاتے ہیں  کہ انسانوں کی بنائی گئی  رسمیں عیسائی کاملیت کی  شکل ہیں۔کیا یہ  اعمال کو   بخشش سے منسوب کرنا  نہیں؟ کلیسا میں یہ کوئی  چھوٹی  بدکاری  نہیں؛ وہ  لوگوں کو  ایسی  عبادت دے رہے  ہیں جو خدا کے حکم کے بغیر، آدمیوں  کی بنائی  گئی ہے ،اور سکھاتے ہیں کہ ایسی  عبادت سے   آدمی بخشے  جائیں گے۔ کیونکہ  عقیدہ اور راستبازی  کسی اور جگہ  کی بجائےگرجا گھر میں  پڑھایا جانا چاہیے۔ لیکن ، جب عبادت  کی ایسی  حیرت انگیز فرشتہ صفت   صورتیں، ظاہری غربت ، عاجزی ،اور تجرد، آدمیوں کی نظروں کے سامنے  ڈالی  جائیں تو  یہ غیر واضح  ہوجاتی  ہیں۔

مزید برآں، جب آدمی یہ سنتے ہیں کہ  راہب  کاملیت  کی  شکل  ہیں تو خدا کے  فرمان اور  سچی   عبادت   دھندلا جاتی ہے۔  کیونکہ عیسائی کاملیت یہ ہے کہ خدا سے  دل  ڈرا جائے، اور  پھر اعلیٰ عقیدہ حاصل  کرنا، اس بات پر ایمان  لانا ہے کہ  یسوع مسیح  کے واسطے ہمارا ایک خدا ہے جو راضی ہوگیا؛  پھر خدا سے مانگنا، اور یقین  سے اس سے توقع رکھنا کہ وہ ہماری ہر ضرورت  میں جوہم کرنا چاہیں اس میں مدد دے گا، ہماری دعا   سے؛ اور اسی اثناء  میں،  بیرونی کاموں میں دلجمعی سے لگے رہنا، اور اپنی عبادت  میں مصروف رہنا۔ اصل کاملیت اور خدا کی سچی عبادت  ان چیزوں پر مشتمل  ہے۔ یہ تجرد، بھیک مانگنے، یا   حقیر کپڑوں میں نہیں۔لیکن لوگ   راہبانہ زندگی کے احکامات سے  بہت  ہی  نقصان دہ رائے   قائم کرلیتے  ہیں۔وہ سنتے ہیں کہ تجرد خیال سے بڑھ کر قابل تعریف ہے،اس لئے وہ ذہن میں ایک جرم کا احساس لئے  اپنی شادی شدہ زندگی کو  گزارتے ہیں۔ وہ سنتے ہیں صرف  بھک منگے کامل ہوتے ہیں:  چنانچہ وہ اپنی ملکیت تو رکھتے ہیں اور کاروبار اپنے ضمیر پر احساس جرم  لئے چلاتے ہیں۔ وہ سنتے ہیں کہ  انتقام  نہ لینا ایک انجیلی  بشارت ہے؛  اس لئے  کچھ اپنی  نجی زندگی میں  بدلہ  لینے سے  پیچھے نہیں ہٹتے کیونکہ وہ سنتے ہیں کہ یہ صرف ایک  نصیحت ہے  کوئی حکم نہیں۔دوسرے سوچتے ہیں  کہ عیسائی  اچھے طریقے سے اک باقاعدہ شہری دفتر  نہیں رکھ سکتے  اور ناہی مجسٹریٹ بن  سکتے۔

یہاں ایسے  آدمیوں کی مثالوں کا  ریکارڈ  موجود ہے جنہوں نے شادیا ں اور ریاست کی ذمہ  داریاں  ختم کیں ،   اور خود کو خانقاہوں میں چھپا لیا۔ وہ اسے ’’ دنیا  سے فرار  قرار دیتے‘‘،  اور ’اور ایسی زندگی   تلاش کرنے  کی کوشش کی  جو خدا کو اور خوش کر سکے۔‘‘ لیکن وہ یہ نہیں دیکھ سکے  کہ ہمیں خدا  کی خدمت ان احکامات  سے کرنی چاہیئے   جو اس نے ہمیں دیئے اور ان سے نہیں جو آدمیوں نے گھڑے۔ ایک اچھی  اور مکمل طرز کی زندگی وہ ہے جس میں خدا کا حکم شامل ہو۔ یہ ضروری ہے کہ آدمیوں کو ان چیزوں کے بارے میں تنبیہ کی جائے۔

ان وقتوں سے پہلے بھی، گرسن  راہبوں کی کاملیت  سے متعلق   اس غلطی کو کوستے  تھے ، اور گواہی دی کہ ان کے دنوں  میں بھی یہ قول نیا تھا  کہ خانقاہی  زندگی  کامیلیت کی ایک  طرز ہے۔

عہد بہت  سی  بری  آراء  سے منسلک ہیں: کہ  وہ  جائز ہیں، کہ وہ عیسائی کاملیت   کی تشکیل  کرتے ہیں،کہ وہ مشاورت اور احکامات رکھتے ہیں، او ر ان کا کام نفلی  ہے۔ چونکہ یہ تمام چیزیں،  گمراہ کن اور خالی  دعوے  ہیں،  چنا نچہ  عہدباطل اور کالعدم ہیں۔

شق نمبر ۲۸: کلیسیائی طاقت پر

بشپ حضرات  کی طاقت  ایک نا اتفاقی  رہی ہے۔ ان میں کچھ لوگ غیر موزوں طور پر کلیسا   کی طاقت   اور تلوار کی طاقت  ملا دیتے  ہیں۔ اور اسی تذبذب  کی وجہ سے  بہت  بڑی جنگیں اور ہنگامے اٹھے۔ اسی اثناء میں، پوپ حضرات،  چابیوں کی طاقت  پر  انحصار کرتے  ہوئے، نا صرف نئی رسوم ایجاد کیں اور  معاملات کے اخفاء اور گرجا سے ظالمانہ طریقے خارج  کرنے  سے  ذہنوں  کو دباؤ کا  شکار  کیا بلکہ دنیا کی حکومت منتقل کرنے کی بھی کوشش کی اور  شہنشاہ سے حکومت لے لی۔ اچھے پڑھے لکھے   اور دیندار لوگ عرصہ دراز سے  کلیسا میں ان  غلطیوں    پر ملامت کرتے آئے۔چنانچہ ہمارے  اساتذہ  ، آدمیوں  کے ذہنوں  کے سکون کے لئے، مجبور ہوئے کہ  کلیسا کی طاقت اور تلوار کی طاقت کے درمیان  فرق  ظاہر کرسکیں۔ اور ہم  سکھاتے ہیں کہ  ہمیں ایک دوسرے  کی احترام اور ادب کرنا چاہیے،خدا کے حکم کے مطابق، گویا وہ  خدا کی  زمین پر اعلیٰ ترین رحمتیں ہوں۔

تاہم، یہ ہماری رائے ہے: کہ چابیوں کی طاقت،  یا بشپ حضرات کی طاقت، انجیل مقدس کے مطابق،  خدا کا حکم  یا طاقت  ہے، انجیل  مقدس کی تبلیغ کرنا؛گناہوں میں کمی کرنا اور برقرار  رکھنا، اور  مقدس رسومات کا انتظام کرنا۔ کیونکہ  اس حکم کے ذریعے یسوع مسیح  اپنے  نبی بھیجتا  ہے، یوحنا 20:21-23:   میں بیان  ہے،جیسے  میرے  باپ نے مجھے بھیجا، اسی طرح  میں تمہیں بھیجتا ہوں مقدس روح  وصول کرو۔ اگر تم  کسی کے گناہ معاف کرو گے،وہ ان کو معاف رہیں  گے؛ اگر تم کسی کے گناہ برقرار رکھو گے، تو وہ برقرار رہیں گے۔‘‘ اور  مارک   میں ہے 16:15: ’’ جاؤ اور ہر مخلوق کو  انجیل مقدس  کی تبلیغ  کرو۔‘‘

آدمی اس طاقت کو صرف انجیل مقدس کی تبلیغ اور  مقدس رسومات کے انتظام  کے لئے استعمال  کرتے ہیں، چاہے  وہ کوئی  انفرادی شخص ہو یا کئی، ان کی دعاؤں کے مطابق۔ کیونکہ ان کے ساتھ  وہ جسمانی طور پر نہیں عطا کئے جاتے ، بلکہ ابدی چیزیں، جیسا کہ ابدی راستبازی، مقدس روح، اور ابدی زندگی۔ کوئی بھی یہ چیزیں یونہی حاصل نہیں کر سکتا  سوائے مقدس کلام اور مقدس  رسومات کے زیرانتظام، جیسا کہ پال کا رومیوں 1:16: میں کہنا ہے، انجیل مقدس    خدا کی  طاقت ہے   جوہر کسی کی نجات  ہے جو یقین  رکھتے ہیں۔‘‘ اس لئے،  چونکہ،کلیسا کی طاقت ابدی  چیزیں عطا کرتی ہے، اور یہ  صرف  مقدس کلام  کے  زیر انتظام ہی ہوتا ہے، اس سے شہری  حکومت میں کوئی مداخلت نہیں کی جا سکتی؛ یہ تو گویا   گلوکاری کے فن  سے شہری حکومت میں مداخلت کرنے سے زیادہ نہیں۔ کیونکہ  شہری حکومت اور انجیل مقدس دونوں  مختلف چیزوں سے نبرد آزما  ہوتے ہیں۔ شہری   حکمران ذہنوں کا دفاع نہیں کرتے، بلکہ جسم  اور جسمانی  چیزوں کا    ظاہری زخموں  کے خلاف، اور وہ  آدمیوں کو تلوار  اور جسمانی  سزاؤں کے ذریعے روکتے ہیں، تاکہ شہری امن اور انصاف کو محفوظ رکھا  جا سکے۔

چنانچہ ہمیں  کلیسا اور ریاست  کی طاقتوں کو ملانا نہیں چاہیے۔کلیسا کی طاقت کا اپنا منشور ہے، انجیل  مقدس  پڑھانا اور مقدس رسومات  کا انتظام کرنا۔ انہیں  ایک دوسرے کے دفاتر میں داخل نہ ہونے دیں ؛  انہیں مجسٹریٹ  کے قوانین کو منسوخ نہ کرنے دیں؛ انہیں  جائز  اطاعت  کو  ختم  نہ کرنے دیں؛انہیں  شہری  قوانین یا معاہدوں سے  متعلق فیصلوں میں  مداخلت نہ کرنے دیں؛ اور ان کو  ریاست  کی طرز سے متعلق قوانین  مجسٹریٹ حضرات کو تجویز نہ کرنے دیں۔ جیسا کہ یسوع  مسیح   یوحنا 18:36: میں فرماتے ہیں، ’’میری سلطنت  اس  دنیا میں نہیں‘‘؛ اور لوکا 12:14: میں ہے  ’’ کس نے  مجھے تم  پر   ایک منصف اور اور  تقسیم  کار بنایا؟‘‘ پال بھی فلپیوں 3:2:  میں  کہتے ہیں، ’’ ہماری  شہریت  جنت  میں ہے ‘‘؛  اور  ۲ کرنتھی  10:4: میں ہے، ’’ ہماری  جنگ کے ہتھیار جسمانی  نہیں، بلکہ خدا کے ذریعے   طاقتور ہیں تاکہ تخیلات  سے حوصلے پست کر سکیں۔

اس طرح سے  ہمارے اساتذہ نے  ہر طاقت کے درمیان  فرائض کا امتیاز رکھا ہے، اور ہمیں حکم دیا  کہ  ان میں سے  ہر ایک  کو ایک تحفے اور رحمت کے طور پر پہچانو اور اس کا احترام  کرو ۔

اگر کسی بشپ میں تلوار کی طاقت  ہے،تو ان  بشپ حضرات  کو یہ رکھنے دیں، انجیل مقدس کے منشور کے مطابق نہیں، بلکہ انسانی حقوق   کی وجہ سے، اپنے دنیاوی  سامان  کے شہری انتظام  کے لئے  ، بادشاہوں اور شہنشاہوں  سے وصول   کیں۔ تاہم ، یہ  ایک عمل  ہے جو کہ انجیل مقدس کی   انتظامیہ سے علیحدہ   ہے۔

اس لئے ،جب، ہم  بشپ حضرات کے دائرہ کار   سے متعلق سوالات  پر غور کرتے  ہیں،ہمیں شہری  اختیار کو کلیسائی دائرہ کار  سے  الگ کرنا ہو گا۔ ایک  بار پھر، انجیل مقدس کے مطابق، یا   ’آفاقی  حقوق    ‘کے مطابق،جیسا کہ وہ کہتے ہیں، کہ بشپ کا دائر کار بشپ ہونے کی وجہ  سے نہیں، یہ کہ  ایسے  آدمیوں کی حیثیت   سے جن پر  مقدس  کلا م اور  مقدس رسومات کی انتظامیہ  کے لئے اعتماد کیا گیا ہو، علاوہ گناہوں کی معافی، اور اسی طرح  تعلیم و تربیت  کا مشاہدہ  کرنا، ایسی تعلیم کو منسوخ  کرنا جو انجیل مقدس   کے برعکس ہو،  اور برے  آدمی ، جن کی برائیاں  مشہور ہوں  کو  کلیسا کے اشتراک سے خارج کرنا، اور یہ سب انسانی قوت سے  نہیں ، بلکہ  کلام مقدس  کے ذریعے  کرنا  ہے۔ یہاں گرجا گھروں کے لئے بے حد ضروری ہے کہ  ابدی حق سے ان  کی اطاعت کریں، لوکا کے مطابق 10:16: ’’ وہ جو تمہیں سنتا  ہے  مجھے سنتا ہے۔‘‘ لیکن جب وہ   انجیل  مقدس  کے برخلاف کچھ گھرتے ہیں  یا سکھاتے  ہیں ، تب جماعتوں کے پاس  خدا کا حکم  ہے جو  جو ان کی اطاعت سے روکتا ہے، متی 7:15:  میں ہے، ’’ جھوٹے نبیوں  سے ہوشیار رہو،‘‘  اور گلتیوں  8:1: میں  ہے ’’ اگر کوئی فرشتہ  آسمان سے  بھی  کوئی مختلف انجیل پڑھاتا ہے، اس پر لعنت ہو۔‘‘  اور  ۲ کرنتھی 13:8,  10: میں ہے،’’ ہم  سچائی کے خلاف کچھ بھی نہیں کرتے، لیکن صرف سچ کے لئے۔‘‘ اور  جو طاقت خدا  نے مجھے دی ہے تعلیم و اصلاح  کے لئے ہے، اور تباہی کے لئے نہیں۔‘‘  چنانچہ ،اس لئے، مقدس  قوانین حکم دیتے  ہیں ( ۲ ۔سوال۔ ۵۔باب، ساسرڈوٹس، باب اووس)۔ اور آگسٹن لکھتے ہیں  ( کونٹرا پیٹیلیانی ایپسٹولم):  ’’ نہ ہی  ہم  کیتھولک  بشپ حضرات  کی اطاعت  کریں گے اگر وہ  غلطی پر ہوئے، یا  خدا  کے  مقدس  قانونی صحائف  کے برعکس  کچھ کیا۔‘‘

اگر ان کے پاس کوئی اور طاقت  یا دائرہ کار  ہے،  مخصوص معاملات سننے   کے  لئے  یا فیصلہ کرنے کے  لئے، جیسا کہ حمل  یا عشرہ، اور اس طرح، تو  وہ یہ  انسانی  حقوق کے تحت  کرسکتے ہیں۔ ایسے معاملات میں، جب عام  لوگ ناکام ہوجاتے  ہیں، شہزادوں کی ذمہ داری ہے، چاہے ان کی خواہش نہ  بھی ہو، امن و امان برقرار  رکھنے کے لئے  اپنے عوام کو انصاف مہیا  کریں۔

مزید برآں، یہ تنازعہ ہے کہ آیا  بشپ یا  پادریوں کو  کلیسا میں تقریبات متعارف کروانے،کھانے سے  متعلق قوانین تشکیل دینے ،مقدس دنوں  اور   منتظمین  کے مرتبوں اور ہدایات، اور وغیرہ  وغیرہ     کا حق  حاصل ہے۔وہ  جو  یوحنا   16:12-13: کی گواہی   ہے’’ میرے پاس  تم  کو کہنے  کی کئی چیزیں ہیں، لیکن تم ان کو اب برداشت نہیں کر پاؤگے۔تاہم، جب وہ  ، سچ کی روح ، جب آئی ، وہ تمہاری  تمام سچ  کے بارے  میں رہنمائی کرے گی ،‘‘کا حوالہ  دیتے ہوئے    دعوی کرتے ہیں  کہ بشپ کو یہ حق حاصل ہے۔ اس کے علاوہ وہ  اعمال 15:20:  میں دی گئی  رسولوں کی مثال کا بھی حوالہ  دیتے ہیں، جس  نے گلا دبا کر مارے ہوئے جانور کا گوشت اور خون استعمال کرنے سے روکنے کا حکم دیا۔وہ سبت کے دن کا حوالہ دیتے ہیں، جو  کہ ،ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ، شریعت موسوی کے احکام کے برعکس، خدا کے طعام کے دن میں بدل گیا۔ وہ کہتے ہیں، کہ کلیسا کی طاقت  اعلیٰ ہے، کیونکہ یہ  دس احکامات میں سے ایک کے ساتھ پابندی سے سبکدوش ہوا!

لیکن اس سوال پر ہمارے اساتذہ سکھاتے ہیں کہ بشپ  کے پاس ایسی کوئی طاقت نہیں  جس سے وہ انجیل مقدس کے خلاف کوئی فرمان  دے سکے، جیسا  کہ اوپر ظاہر ہوا ہے۔مقدس قوانین  بھی یہی سکھاتے ہیں( امتیاز ۹)۔ مزید برآں، یہ صحیفوں کے  کے بھی خلاف ہے کہ رواج بنائیں یا ہم سے چاہیں کہ انہیں منائیں، تاکہ  اپنے گناہوں کا ازالہ کرسکیں  یا فضل اور راستبازی حاصل کر سکیں ۔ کیونکہ  ایسے  رواجوں   کے ذریعے جب  ہم   بخشش کا اندازہ  لگانے کی کوشش کرتے ہیں تو خود کو یسوع مسیح  کی عظمت سے علیحدہ کر لیتے ہیں۔تاہم، واضح طور پر، اس رائے کی وجہ سے،گرجا گھر  میں رواج تقریباََ لامحدود حد تک بڑھتے  چلے گئے، جبکہ اسی وقت، عقیدے  اور عقیدے  کی راستبازی کے بارے میں تعلیمات  دبا دی گئیں،اسی لئے  انہوں  مزید  تہوار اور عید کے دن بنائے، روزے مقرر  کئے، ولیوں کے اعزاز  میں عبادتیں اور تقریبات   گھڑیں،کیونکہ ان چیزوں کے خالقوں کے خیال میں وہ  بخشش کا سامان کررہے  تھے۔ اسی طرح، ماضی میں، توبہ سے متعلقہ مقدس  قانون   کوکئی گنا  بڑھایا گیا؛ اور ہم   ابھی  بھی اطمینان  میں  اس کے آثار  کا مشاہدہ کر سکتے ہیں۔

اسی طرح، رواجوں  کے خالق  خدا کے احکام  کے مخالف ہیں، جب وہ کھانے ، دنوں اور ایسی  چیزوں کے  لئے  گناہ ایجاد کرتے ہیں، اور کلیسا  پر قانون کی غلامی کا بوجھ ڈالتے ہیں، گویا   خدا  نے نبیوں اور بشپ حضرات کو حکم دیا ہو  کہ عیسائیوں کی بخشش  کے لئے  لوی  کی عبادت جیسا کچھ تیار کریں۔ کیونکہ ان میں کچھ ایسا  ہی لکھتے ہیں۔ اور  پوپ حضرات  کسی حد تک  موسی کے قوانین کی مثالوں سے   بھٹک  رہے ہیں۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں سے بوجھ آرہا ہے: کہ  یہ فانی گناہ  ہے، دوسروں کو تکلیف دیئے بغیر،مقدس دنوں میں ہاتھوں سے  محنت کرے؛یہ کہ روایتی  نمازوں کے  اوقات  قائم نہ کرنا  ایک فانی گنا ہ  ہے؛ یہ  کہ مخصوص  کھانے ذہن کو آلودہ کرتے   ہیں؛ یہ کہ روزے رکھنا   خدا کو  راضی کرنے کاکام ہے؛ یہ  کہ محفوظ شدہ  گناہ کو کوئی معاف نہیں کرتا علاوہ اس  صاحب  اختیار کے جس نے  کہ یہ   محفوظ کیا ہو، اگرچہ مقدس  آئین  خود بھی جرم  کو محفوظ  کے بارے  میں کوئی ذکر نہیں کرتا، سوائے  کلیسائی  سزا  محفوظ رکھنے کے۔

کہاں سے بشپ  حضرات   کو اس طرح کی روایات  کو کلیسا پر لاگو  کرکے  ذہنوں کو  کو پھنسانے  کو حق ملا، جب پیٹر ،اعمال 15:10:  میں   پیروکاروں  کی گردن میں جوا ڈالنے  سے  منع کرتے ؛   اور  پال  ۲ کرنتھی   13:10: میں کہتے  ہیں کہ انہیں طاقت اخلاقی اصلاح کے لئے دی گئی  تھی نہ  کہ تباہی کے لئے؟  اس لئے ،کیوں وہ ان  رواجوں سے  گناہوں میں اضافہ کررہے  ہیں؟

لیکن یہاں واضح گواہیاں  موجود ہیں جو ایسے  رسم و رواج  بنانے  سے منع  کرتی ہیں، گویا وہ  نجات کے لئے ازبس ضروری ہوں  یا بخشش کو ذریعہ  ہوں۔ پال  ، کلسیوں    2:16, 20-23: میں کہتے ہیں، اس لئے کوئی تمہارا کھانے  یا پینے، یا کسی میلے یا نئے چاند یا سبت۔۔۔۔۔ کی وجہ   انصاف نہیں کرسکتا۔ ’’اس لئے، اگر تم  مسیح کے  دنیا  کےبنیادی اصولوں کے ساتھ مر جاتے ہو، کیوں، گویا دنیا  میں ہی  رہ رہے  ہو، کیوں تم  خود کو  قواعد کا  بابند بناتے ہوـــــــ ’’ نہ ہاتھ لگاؤ، نہ چکھو، نہ سنبھالو،‘‘   آدمی کے  بنائے  ہوئے  اصولوں اور احکامات کے تحت ـــکونسی ایسی  متعلقہ  چیزیں  ہیں جو استعمال سے  ختم  ہو جاتی ہیں؟ ان چیزوں میں   دانائی ظاہر ہوتی  ہے۔‘‘ اس کے علاوہ ططس 1:14: میں واضح  طور پر  روایات  سے منع کیا گیا  ہے:’’ یہودی قصوں اور  انسانی احکامات کی طرف راغب مت  ہوں جو سچائی سے  ہٹاتے ہیں۔‘‘

اور یسوع مسیح متی    15:14,13: میں  ان کے بارے  کہتے ہیں جو روایات  چاہتے ہیں:’’ ان کو تنہا چھوڑ دو؛  وہ نابینا   سردار ہیں‘‘؛ اور انہوں نے  عبادت  کی ایسی طرز کو رد کیا: ’’ ہر وہ پودا جو میرے  آسمانی باپ نے نہیں لگایا، اُکھاڑ ڈالنا  چاہیئے۔‘‘

اگر بشپ حضرات کے  پاس گرجا گھروں پر لامحدود  روایات کا بوجھ ڈالنے  کا حق  ہے، اور ذہنوں کو پھنسانے کا،  کیوں صحیفے  روایات بنانے ، اورکرنے سے روکتے ہیں ؟ کیوں وہ  انہیں ’’ بدکاروں کے نظریات ‘‘ کہ کر پکارتے ہیں۔ ۱ تیمتھیئس 4:1: میں؟  کیا مقدس روح نے ہمیں  ان چیزوں کے بارے میں پہلے  بے سود تنبیہ کی تھی؟

 اس  لئے ، چونکہ  قوانین انجیل مقدس کے خلاف ہیں،  جب وہ ایسے  بنائے جائیں گویا وہ ضروری ہوں، یا اس نظریے  سے کہ ان سے بخشش ہو سکتی ہے،  یہ کہ  بشپ حضرات کو اس بات  کی اجازت نہیں کہ وہ ایسی عبادتیں گھڑیں یا  کرنا چاہیں  ۔ کیونکہ یہ ضروری ہے  کہ  گرجا گھروں میں  عیسائی آزادی کے نظریہ  کو محفوظ رکھا  جائے، یعنی،  کہ  قانون کی پابندی    بخشش کے لئے ضروری نہیں، جیسا کہ گلتیوں  5:1: میں لکھا ہے،’’ پابندیوں کے جوئے میں خود کو دوبارہ مت الھجاؤ۔‘‘ انجیل مقدس کے مرکزی مضمون کو محفوظ رکھنا  ضروری ہے، یعنی، کہ ہم   آزادی سے  یسوع مسیح پر ایمان لا  کر  رحمت حاصل کر سکتے ہیں،  آدمی کی گھڑی ہوئی عبادت کے  مخصوص  عمل   کرنے یا  ان کو منانے سے نہیں۔

پھر ، ہمیں  اتوار کے  دن کے بارے  میں کیا سوچنا چاہیئے، اور خدا کے گھر میں اس جیسی  دوسرے رسوم؟ اس سوال پر ہم  جواب دیتے ہیں کہ یہ پادریوں اور بشپ حضرات  کے لئے جائز ہے  کہ قوانین بنائیں،تاکہ  گرجا گھر میں چیزیں  منظم  انداز میں  وقوع پذیر  ہو سکیں،ان میں ہمارے  لئے رحمت  کے حصول    یا گناہوں کے  ازالہ   کی بات نہیں ہونا  چاہیئے، یا ذہنوں کو پابند کیا جائے کہ انہیں ضروری  عبادت کے طور پر اپنا لیں، اور سوچیں کہ   دوسروں کو تکلیف  پہنچائے بغیر انہیں توڑنا   ایک گناہ  ہے۔ چناچہ پال  نے  ۱ کرنتھی  11:5: میں ایک قانون وضع کیا، کہ خواتین  اجتماع  میں اپنا سر ڈھانپ کر رکھیں، اور ۱ کرنتھی 14:30، کہ  ترجمانوں کو گرجا  گھر میں منظم طریقے سے سنا جائے،وغیرہ وغیرہ۔

یہ مناسب ہے کہ گرجا گھر وں کو ان قوانین کا محبت اور سکون کی خاطر احترام کرنا چاہیئے، تاکہ ایک شخص دوسروں کو مشتعل نہ کرسکے، چنانچہ،  گرجا گھروں میں سب چیزیں منظم طریقے سے  ادا ہوں، بغیر کسی  پریشانی  کے، ۱ کرنتھی 14:40۔  فلپیوں 2:14، سے تقابل کریں۔ لیکن  یہ ایسے طریقے  سے سرانجام پانا چاہیئے کہ ذہن  پر یہ بوجھ نہ ہو  کہ یہ چیزیں نجات کے لئے ضروری ہیں، یا یہ فیصلہ کرنے کے لئے  بھی نہیں کہ وہ دوسروں کو ایذ ا پہنچائے بغیر گناہ کا  ارتکاب کررہے ہیں،۔ چنانچہ، کوئی بھی یہ نہیں کہ سکتا کہ ایک عورت اگر  مجمع میں  سر ڈھانپے بنا  چلی گئی  تو  وہ گناہ گار  ہوگئی، اگر وہ کسی کو تکلیف نہیں پہنچارہی۔

اتوار کا دن، ایسٹر،پینٹکوسٹ ، اور تمام دوسرے  مقدس دن  اور رسمیں   منانا اس قسم میں آتی ہیں۔کیونکہ وہ بہت بڑی غلطی پر ہیں، جو یہ سوچتے ہیں کہ  کلیسا  کی انتظامیہ کو اتوار  کے دن کو سب کی  جگہ   منانا ضروری  قرار دینا چاہیئے۔  صحیفوں نے سبت کا دن منسوخ کردیا تھا، کیونکہ وہ یہی سکھاتے ہیں، جب سے انجیل مقدس ظاہر ہوئی ہے، موسی کی تما م تقریبات  حذف کی جا سکتی ہیں۔ اور ،پھر بھی، کیونکہ یہ ضروری ہے کہ ایک مخصوص دن مقرر کیا جائے، کہ لوگوں کو معلوم ہو کہ کس وقت  ان کو اکٹھا ہونا  چاہیئے، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کلیسا نے  اتوار کے دن کو اس مقصد کے چنا ہے۔ اور یہ دن  کو یوں بھی  ایک اضافی وجہ سے منتخب کیا گیا ہے، تاکہ لوگوں کے پاس عیسائی  آزادی کی ایک مثال ہو، اور جان لیں کہ سبت یا کوئی دوسرا دن ضروری نہیں۔

یہاں  قانون کی تبدیلی  کے بارے میں کچھ ایسی  بھیانک آراء بنائی جارہی ہیں، نئے قوانین کی تقریبات، اور سبت کے دن کی تبدیلی، سب کی سب اس جھوٹے  عقیدے سے  نکلے  کہ  کلیسا میں  لوی کی طرز کی عبادت  ہونے کی ضرورت  ہے، اور یہ کہ  یسوع مسیح  نے نبیوں اور بشپ   حضرات کو  نجات کے لئے ضروری  نئی تقریبات  ایجاد  کرنے  کی  ذمہ داری سونپی  ہے۔ یہ  غلطیا ں گرجا گھر میں دبے پاؤں  داخل  ہو گئیں  جب عقیدے کی راستبازی کو درست طریقے سے  نہیں پڑھایا  گیا۔ کچھ کہتے ہیں کہ اتوار کے دن کو رکھنا   خدائی حق  کی  تخلیق نہیں ، لیکن ایسے ہی  ہے جیسے خدائی  حق سے ہو۔ انہوں  نے مقدس دن  تجویز کئے،  کام کرنا کتنا جائز  ہے۔ ایسی  آرا ء کیا ہیں، سوائے  ذہنوں کو  الجھانے ؟ کیونکہ  وہ شائد روایات کو درست  ثابت کرنا چاہتے ہوں، لیکن  صداقت پھر بھی        ظاہر نہیں، جب تک کہ  یہ رائے موجود رہے کہ وہ ضروری  ہیں؛ لیکن یہ رائے   ضروری  رہے گی، جہاں  پر عقیدے کی راستبازی  اور عیسائی آزادی  پہچانی نہیں جاتی۔ 

اعمال 15:20: میں نبی ہدایت  دیتے ہیں، ’’ خون سے باز رہو‘‘۔ کو  ن اب  اس کا خیا ل رکھتا  ہے؟ اور پھر بھی وہ گناہ نہیں کرتے، کون اس کا خیال نہیں کرتا، کیونکہ  نبی  خود بھی  ذہنوں پر  اس طرح کی پابندیوں سے   بوجھ ڈالنا نہیں چاہتے تھے؛ لیکن انہوں نے ایک  وقت میں اسے منع کیا،تاکہ جرم وقوع پذیر نہ ہو ۔ کیونکہ انجیل مقدس کے    یکساں مقصد  کے لئے  فرمان کے اس حصے  پر توجہ دینی ضروری  ہے۔

مقدس آئین  میں سے کسی کو بھی بہت کم  مکمل رکھا  گیاہے، اور ان میں سے  بھی بہت  سے ہرروز ختم  ہورہے ہیں، یہاں تک ان لوگوں میں بھی جو بہت احتیاط سے  روایات کی پابندی کرتے ہیں۔اور یہ ممکن نہیں کہ لوگوں کے ذہنوں کو دلاسا دیا  جاسکے جب تک کہ انصاف  برقرارنہ رکھا جائے ، کہ ہم جانتے  ہیں کہ مقدس آئین  کو  اس رائے کے بغیر رکھا گیا  ہے  کہ  وہ ضروری  ہیں، اور ذہنوں کو کوئی نقصان  نہیں پہنچے گا، چاہے روایات استعمال میں  نہ  بھی رہیں۔

تاہم،بشپ حضرات، لوگوں سے  جائز اطاعت  آسانی سے   کروا سکتے ہیں، اگر وہ اس بات   پر زور نہ دیں کہ وہ  ان روایات  کو منائیں جو ایک اچھے ضمیر کے ساتھ  نہیں  کیا جاسکتا۔اب وہ تجرد کا حکم  دیتے ہیں؛  وہ تسلیم کرتے ہیں کہ صرف ان   لوگوں کو  جنہوں  نے قسم  اٹھائی  ہوگی وہ انجیل مقدس   کی اصل تعلیم  نہیں دیں گے۔ گرجا گھر   بشپ حضرات کو یہ نہیں کہہ رہے اتفاق رائے  کو  اپنی عزت کی قیمت پر بحال کریں؛ جو، پھر ، اچھے پادریوں کے  لئے کرنا  بھی  مناسب نہیں۔ ان سے صرف  یہ کہا جا رہا ہے کہ  وہ  اس غیرمنصفانہ  بوجھ کو ہٹا دیں جو نیا  ہے اور کیتھولک  چرچ   کی روایات  کے برعکس    لئے   گئے  ہیں۔ شروع میں شائد وہ  قوانین ہوں گے،بظاہر اس  کی کئی معقول وجوہات ہوں گی،جو بعد کے ان وقتوں کے لئے  موزوں نہیں۔یہ بھی ظاہر ہے کہ  کچھ غلط طور پر اپنا لی گئی ہوں گی۔اس لئے یہ پوپ حضرات  نے ان  کی تخفیف کے سلسلے میں نرمی برتی، کیونکہ اس طرح کی تبدیلیاں  کلیسا کے اتحاد کو  متزلزل نہیں  کرسکتیں۔ کیونکہ بہت  سی انسانی روایات  وقت کے ساتھ ساتھ بدلتی رہتی ہیں، جیسا کہ مقدس آئین  میں خود بھی ظاہر ہے۔    لیکن  ایسی رسومات  میں تخفیف  حاصل کرنا ناممکن  ہے کیونکہ  گناہ کے  بغیر نہیں رکھا  جا سکتا، ہم نبیوں کے اصولوں پر چلنے پر مجبور ہیں،اعمال  5:29، جو ہمیں خدا  کی اطاعت  کرنے کا   حکم دیتا  ہے بجائے  آدمیوں  کے۔

۱ پیٹر 5:3، میں پیٹر  بشپ حضرات  کو  آقا بننے، اور گرجا گھروں  پر حکومت  کرنے  سے روکتے  ہیں۔اب یہ   ہماری نیت  نہیں کہ بشپ حضرات حکومت واپس لی جائے، لیکن ہم ایک بات ضرور کہیں گے، یعنی، کہ وہ  درست  طریقے  سے انجیل مقدس پڑھانے کی اجازت دیں، اور وہ  ان  چند رسموں  پر ڈھیل دیں جو گناہ  کے  بغیر نہیں  رکھی جا سکتیں۔لیکن  اگر ان میں کوئی رعایت  نہیں برتتے، تب یہ ان کو دیکھنا  ہے   کہ وہ  یہ  مہیا  کرنے پر، اپنی ہٹ دھرمی پر ،اور فرقہ بندی کا سبب بننے پر  خود  خدا کو ہی حساب دیں  گے۔

نتیجہ

یہ وہ اہم شقیں ہیں جن پر تنازعہ ہے۔کیونکہ  اگرچہ ہم   نے مزید زیادتیوں  پر بات کر سکتے تھے،پھر بھی ہم نے طوالت  نظرانداز کی ،ہم اہم نکات کا انتخاب کیا، جن میں سے باقی کا  بھی جائزہ  لیا جا سکتا ہے۔  نفس پرستی، زیارتوں  اور تکفیری معاملات کے بارے میں بہت سی  شکایات  رہی ہیں۔پادریوں  کے علا قوں کو   تاجروں نے کئی طرح کی سرگرمیوں سے ستا رکھا ہے۔پادریوں اور راہبوں کے درمیان علاقائی  حقوق ، اعتراف ، تدفین،خاص مواقع کے خطبات، اور ایسی  بے شمار چیزوں کو لے کر نہ ختم ہونے والی مسابقت چل رہی ہے۔ہم نے ان معاملات سے  چشم پوشی کی ہے تاکہ  اس معاملے کے اہم نکات جن  کو  مختصراََ پیش کیا گیا  ہے ،کو آسانی سے سمجھا جا سکے۔  نہ ہی یہاں پر کچھ ایسا کہا  گیا  یا دلیل  دی جس سے کسی کی ملامت ہو۔صرف ان باتوں کو دہرایا گیا ہے جن کے بارے میں ہم سمجھتے ہیں کہ ان کے  بارے میں بات کرنا ضروری ہے،تاکہ یہ سمجھا جا سکے کہ تقریبات  اور نظریے  میں ہماری طرف  سے کچھ ایسا  ڈالا گیا جو صحیفوں اور کیتھولک چرچ کے خلاف ہو۔ کیونکہ یہ ظاہر ہے کہ ہم نے بہت دلجمعی سے احتیاط کی ہے کہ کوئی نیا  اور بے دین  نظریہ ہمارے  گرجا گھروں میں داخل نہ  ہوسکے 

ہم  اوپر دی گئی شقوں  کو آپ کے حکم کے مطابق آپ کی خدمت میں پیش کرنا چاہتے  ہیں،تاکہ  ہم  اپنا اعتراف  ظاہر کرسکیں اور لوگ  ہمارے اساتذہ کے نظریے  کا خلاصہ  دیکھ سکیں۔ اگر یہاں کوئی  ایسی چیز ہے جو  کسی کو   محسوس ہو کہ ابھی بھی اس  اعتراف میں موجود نہیں، ہم نیک خواہشات  کے ساتھ   ، صحیفوں کے مطابق  مکمل تفصیلات  فراہم کرنے کو تیار ہیں۔

شہنشاہ معظم  کے وفادار غلام:

جون،ڈیوک آف سیکسنی،الیکٹر

جارج،مارگریو آف برینڈنبرگ۔

ارنسٹ،ڈیوک آف لیونیبرگ۔

فلپ،لینڈگریو آف ہیسی۔

جون فریڈرک،ڈیوک آف سیکسنی۔

فرانسس،ڈیوک آف لیونیبرگ۔

ولف گینگ،پرنس آف  اینہالٹ۔

سینٹ  اور میجسٹریسی آف نیوریمبرگ۔

سینٹ آف ریوٹلنگن۔